فتوی برائے حوالگی بچے، محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ ، جناب عالی! گزارش ہے کہ میری سگی بہن ہے، اس کی شادی سوات کے پی کے میں ہوئی تھی، دو سال پہلے میری بہن کو ناچاقی کی صورت میں تین طلاق ہو گئی تھی اور اس کا جو حق مہر تھا وہ بھی دے دیا ، میری بہن کے چار بچے ہیں، دو لڑکیاں اور دو لڑکے، جو طلاق کے بعد باپ نے اپنے پاس رو ک لئے تھے، لڑکے نے دوسری شادی کر لی تھی، حال ہی ایک ہفتہ پہلے اس لڑکے کا انتقال ہو گیا ، اب مسئلہ یہ ہے کہ بچوں کی والدہ بھی سوتیلی ہے اور دادی بھی سوتیلی ہے، میری بہن ابھی تک ہمارے ساتھ ہے ، اور اس کى شادی نہیں ہوئی، لہذا میری بہن چاہتی ہے ، بچے مجھے واپس مل جائیں، میں ان کى دیکھ بھال اور تعلیم وتربیت کر سکوں ، اب مفتی صاحب سے التماس ہے کہ قران کی روشنی میں بچے واپس لے سکتی ہوں؟ وہاں پنچایت جرگے نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ بچے والد کے پاس رہیں گے، لیکن اب ان کے والد کا انتقال ہو چکا ہے، تو سوتیلى ماں اور سوتیلی دادی ان کی وه تربیت نہیں کر سکتی، جو میری بہن جو ان کے سگ والدہ ہیں وہ کرے گی، بچوں کی عمرىں بالترتیب: لڑکا آٹھ سال، لڑکی چھ سال، لڑكا چار سال، نیز بچوں کی نانی بھی حیات ہے، آپ سے درخواست ہے اب اس سلسلے میں قران و حدیث کے روشنی میں ہماری مدد کرىں، شکریہ۔
واضح ہو کہ طلاق کی صورت میں بچے کی عمر سات سال اور بچی کی عمر نو سال مکمل ہونے تک ان کی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہوتا ہے، بشرطیکہ اس دوران وہ ان بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے، ورنہ ماں کا حق پرورش ختم ہو کر ان بچوں کی نانی، دادی، خالہ اور پھوپھی بالترتیب حاصل ہوگا، جبکہ دوران پرورش ان بچوں کے اخراجات والد پر لازم ہوں گے، مذكور مدت كے بعد والد كو انہىں اپنى تحويل مىں لىنے كا حق حاصل ہوگا اور والد كى عدم موجودگى كى صورت مىں مذكور حق بچوں كے دادا اور چچا كو بالترتيب حاصل ہوگا۔
چنانچہ صورت مسئولہ میں جرگہ كى جانب سے مذکور مدت تک بچوں کی پرورش کا حق والد كو دىنے كا فيصلہ شرعاً درست نہ تھا، بلكہ بچوں كى پرورش كا حق بدستور ماں کو حاصل ہے،
البتہ مذکور مدت مکمل ہونے پر بچوں کا دادا یا چچا ان کو اپنی تحویل میں لینا چاہے، تو لے سکتا ہے، چنانچہ آٹھ سالہ لڑکے کو ماں اپنے پاس نہیں روک سکتی، نیز اگر ان کو ملنے والا حصہ میرات ان کیلئے کافی نہ ہو تو ایسی صورت میں ان کے اخراجات دادا اور چچاؤں پر لازم ہوں گے۔
كما في الدر المختار: (تثبت للأم) النسبية (ولو) كتابية، أو مجوسية أو (بعد الفرقة) (إلا أن تكون مرتدة) فحتى تسلم لأنها تحبس (أو فاجرة) فجورا يضيع الولد به كزنا وغناء وسرقة ونياحة كما في البحر والنهر بحثا. (إلى قوله) (أو غير مأمونة) ذكره في المجتبى بأن تخرج كل وقت وتترك الولد ضائعا (إلى قوله) (أو متزوجة بغير محرم) الصغير (أو أبت أن تربيه مجانا) (كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج: 3، ص: 555، 556، 557، ط: ايج ايم سعيد)
وفيه أيضا: (ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور وأما أم أبي الأم فتؤخر عن أم الأب بل عن الخالة أيضا بحر ألخ (كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج: 3، ص: 563، ط: ايج ايم سعيد)
وفي الدر المختار أيضا: (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. (إلى قوله) (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية.اهـ
وفي رد المحتار: (قوله: حتى يستغني عن النساء) بأن يأكل ويشرب ويستنجي وحده، (إلى قوله) (قوله: أي تبلغ) وبلوغها إما بالحيض، أو الإنزال، أو السن ط. (كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج: 3، ص: 566، ط: ايج ايم سعيد)
وفيه أيضا: وفي الخلاصة وغيرها: وإذا استغنى الغلام وبلغت الجارية فالعصبة أولى، يقدم الأقرب فالأقرب ولا حق لابن العم في حضانة الجارية. اهـ.قلت: بقي ما إذا انتهت الحضانة ولم يوجد له عصبة ولا وصي فالظاهر أنه يترك عند الحاضنة، إلا أن يرى القاضي غيرها أولى له، والله أعلم.اهـ (كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج: 3، ص: 566، ط: ايج ايم سعيد)
وفي الفقه على المذاهب الأربعة: انتقلت الحضانة إلى عصبته من الرجال، فيقدم الأب، ثم أبو الأب، وإن علا، ثم الأخ الشقيق، ثم الأخ لأب، ثم ابن الأخ الشقيق، ثم ابن الأخ لأب، وكذا أبناء أبنائهم، وإن سفلوا، ثم العم الشقيق، ثم العم لأب، ثم ابن العم الشقيق ثم ابن العم لأب، بشرط أن يكون المحضون ذكراً، أما الأنثى فلا تدفع إلى أبناء الأعمام، لأنها ليست محرماً بالنسبة لهم، فإذا لم يكن للصغيرة إلا أبناء الأعمام فالنظر في ذلك للقاضي، فإن شاء دفعها إليهم، وإلا دفعها عند امرأة أمينة.اهـ (مباحث الحضانة، ج: 4، ص: 520، ط: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)
وفي الهندية: والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين ألخ (الباب السادس عشر في الحضانة، ج: 1، ص: 542، ط: مكتبة ماجدية)
وفي رد المحتار: في جوامع الفقه: إذا لم يكن للأب مال والجد أو الأم أو الخال أو العم موسر يجبر على نفقة الصغير ويرجع بها على الأب إذا أيسر، (إلى قوله) فإن كان له أم موسرة فنفقته عليها؛ وكذا إن لم يكن له أب إلا أنها ترجع في الأول. اهـ فتح. (إلى قوله) وهذا إذا لم يكن الأب زمنا عاجزا عن الكسب وإلا قضي بالنفقة على الجد اتفاقا؛ لأن نفقة الأب حينئذ واجبة على الجد فكذا نفقة الصغار، ولا يخفى أن كلامنا الآن في الأب العاجز عن الكسب تأمل.اهـ (باب النفقة، ج: 3، ص: 613، ط: إيج إيم سعيد)
وفي فتح القدير: (قوله والنفقة على الأب على ما نذكر) أي في باب النفقة، وهذا إن كان حيا، فإن كان ميتا فعلى ذي الرحم الوارث على قدر المواريث.اهـ (باب الولد من أحق به، ج: 4، ص: 368، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي وأولاده بمصر)
وفي التاتارخانية: وإن كان الأب قد مات وترك أموالا وأولادا صغارا كانت نفقة الأولاد من أنصبائهم، وكذا كل من يكون وارثا فنفقته في نصيبه.إلخ (كتاب النفقات، الفصل: 3، نفقة ذوي الأرحام، ج: 5، ص: 421-422، ط: مكتبة زكريا، بديوبند، الهند)