السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، ہماری ایک فلاحی کمیٹی ہے جس میں 15 افراد شامل ہیں۔ اس کمیٹی میں کوئی بیرونی گرانٹ یا امداد نہیں آتی، بلکہ تمام رقم صرف ممبران کے ماہانہ چندے سے جمع ہوتی ہے۔ یہ رقم ممبران کی ہی ہنگامی ضروریات (ایمرجنسی) میں مدد کے لیے استعمال کی جاتی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کچھ ممبران باقاعدگی سے چندہ جمع کرواتے ہیں، جبکہ کچھ ممبران چندہ جمع نہیں کرواتے۔ جو لوگ رقم جمع نہیں کرواتے، کیا کمیٹی ان پر جرمانہ عائد کر سکتی ہے؟
اگر جرمانہ لینا جائز ہو تو: 1. اس جرمانے کی رقم کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے؟
2. کیا کمیٹی کی جمع شدہ رقم کو کسی حلال طریقے سے سرمایہ کاری (Invest) کیا جا سکتا ہے ، تاکہ کمیٹی کو فائدہ ہو؟
3. اگر کوئی ممبر چندہ نہیں دیتا، لیکن ضرورت کے وقت کمیٹی سے مدد لینا چاہتا ہے تو اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
ڈسٹرکٹ مردان ویلفیئر کمیٹی پی این ایس مہران کے قواعد و ضوابط آسان اور واضح اردو میں درج ذیل ہیں:
بنیادی قوانین اور چندہ: * ماہانہ چندہ: ہر ماہ 1000 روپے لازمی جمع کروانا ہوں گے۔
* زیادہ سے زیادہ رقم: جمع شدہ رقم کی آخری حد 30,000 روپے ہے (15 اگست 2025 تک)۔
* نئے ممبران کے لیے رعایت: جن ممبران نے 15 اگست 25 کو کمیٹی جوائن کی، انہیں کل رقم کا 50 فیصد ایک ساتھ یا اگلے 6 ماہ میں ملے گا (ستمبر 25 سے آغاز)۔
قرض کی سہولت اور واپسی * ہنگامی قرض: قرض صرف قریبی خونی رشتہ داروں (اپنے یا بیوی کے والدین اور بہن بھائیوں) کی ایمرجنسی میں ملے گا۔
* قرض کی حد: ان-لیونگ (in-living) کے لیے 25,000 روپے اور MLR کے لیے 40,000 روپے تک قرض مل سکتا ہے۔
* قرض کی واپسی: ہوم ٹاؤن سے واپسی پر ایک مہینہ چھوڑ کر، ان-لیونگ کے لیے 2,000 روپے ماہانہ اور MLR کے لیے 3,500 روپے ماہانہ قسط ہوگی۔
دیگر مراعات اور اخراجات،* بیمار کی عیادت: ہسپتال میں داخل بیمار ممبر کی عیادت کے لیے 1,000 روپے تک خرچ کیے جائیں گے۔
* رقم کی واپسی: ریٹائرمنٹ یا دوسرے شہر تبادلے پر ممبر کو اس کی پوری جمع شدہ رقم واپس
مل جائے گی۔
* بغیر وجہ کمیٹی چھوڑنا: اگر کوئی بغیر وجہ کمیٹی چھوڑے گا، تو اس کی رقم 2,000 روپے ماہانہ قسط کی صورت میں واپس ہوگی۔
نظم و ضبط: * سلوک اور مرضی: لڑائی جھگڑے اور الزام تراشی کی بالکل اجازت نہیں، کمیٹی میں رہنا یا چھوڑنا اختیاری ہے۔
* مدت: یہ تمام قوانین اگلی ترمیم (تبدیلی) تک لاگو رہیں گے۔
واضح ہو کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ تعاون اور تناصر ایک مستحسن عمل ہے، جس کی خوبی کسی سے مخفی نہیں، لہذا اگر کسی برادری یا اہل محلہ کے چند افراد مل کرماہانہ تعاون کی بنیادپرکوئی کمیٹی تشکیل دیں ،جس کامقصد اس تعاون کی مدمیں جمع شدہ رقم سے شرائط وضوابط کے مطابق ممبران کےساتھ ہنگامی حالات میں تعاون کرنا ہو، تو یہ صرف جائز ہی نہیں ، بلکہ شرعاً وعرفاً ایک مستحسن عمل ہے، تاہم مذکورکمیٹی کومشترکہ ملکیتی بنیادپرقائم کرنے میں بہت سے شرعی مفاسدپیداہونےکاقوی امکان ہے، چنانچہ اگرواقعۃً باہمی تعاون و تناصر کی بنیادپرکوئی کمیٹی قائم کریں تواس کابہترطریقہ یہ ہے کہ اس کو با قاعدہ وقف فنڈ کی بنیاد پر قائم کیا جائے، اس طور پر کہ شروع میں اس کمیٹی کے کچھ ممبران مخصوص رقم وقف کر کے مستقل ایک فنڈ قائم کریں جو کہ کمیٹی کے قائم رہنے تک ( مطلوبہ ) اخراجات کے لیے استعمال نہ ہو، بلکہ وہ رقم محفوظ رہے، اس کے بعد کمیٹی میں شامل ہونے والے افراد باہمی رضامندی سے متعین مقدار میں اس قائم کردہ وقف فنڈ میں رقم جمع کراتے رہیں، جو کہ فقہی لحاظ سے مملوکِ وقف شمار ہو گی، اور اس مملوکِ وقف (چندہ) کو کمیٹی کی شرائط وضوابط کے مطابق مطلوبہ اخراجات میں خرچ کیا جائے، تو مذکور مقصد کے لئے درجِ بالا طریقۂ کار کے مطابق کمیٹی بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں
البتہ چندہ یا قرض کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سےکسی ممبرپر مالی جرمانہ مقرر کرنا شرعاً جائز نہیں ۔ تاہم نظم ونسق برقراررکھنے کی غرض سےاگر ایسے ممبر کی بعض سہولیات عارضی طور پر معطل کرنے یا جب تک وہ بقایا چندہ ادا نہ کرے، اسے نئے قرض یا دیگر مراعات نہ دینےکی ابتداء معاہدہ میں ہی شرط عائدکردی جائے؛ توشرعاًاس کی گنجائش ہے۔ تاہم اگر کسی چندہ نہ دینے والے ممبر کو واقعی شدید مجبوری لاحق ہوجائے اور کمیٹی کے ذمہ داران باہمی رضامندی سے استثنائی طور پردیگرشرکاء کی رضامندی سے اس کی مدد کرنا مناسب سمجھیں، تو احسان اور تعاون کے طور پر اس کی مدد کی جاسکتی ہے، لیکن یہ اس کا لازمی حق نہیں ہوگا۔ اسی طرح جمع شدہ رقم کو تمام ممبران کی رضامندی سے کسی جائز کاروبار یا سرمایہ کاری (جس میں سرمایہ کے ضائع ہونے کے کم سےکم خدشات ہوں) میں لگانے کی بھی گنجائش ہے۔
كما في السنن الكبرى البيهقي : عن أبي حرة الرقاشي ، عن عمه ، أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :" لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه "(کتاب الغصب، باب من غصب لوحا فأدخله في سفينة أو بنى عليه جدارا، ج: ٦، ص: ١٦٦، رقم الحديث: ١١٥٤٥، مط: دار الكتب العلمية)
و في رد المحتار : و لما جرى التعامل في زماننا في البلاد الرومية و غيرها في وقف الدراهم و الدنانير دخلت تحت قول محمد المفتى به في وقف كل منقول فيه تعامل كما لا يخفى ؛ فلا يحتاج على هذا إلى تخصيص القول بجواز وقفها بمذهب الإمام زفر من رواية الأنصاري والله تعالى أعلم ، وقد أفتى مولانا صاحب البحر بجواز وقفها و لم يحك خلافا .اه ما في المنح قال الرملي : لكن في إلحاقها بمنقول فيه تعامل نظر إذ هي مما ينتفع بها مع بقاء عينها على ملك الواقف ، و إفتاء صاحب البحر بجواز وقفها بلا حكاية خلاف لا يدل على أنه داخل تحت قول محمد المفتى به في وقف منقول فيه تعامل ؛ لاحتمال أنه اختار قول زفر و أفتى به و ما استدل به في المنح من مسألة البقرة الآتية ممنوع بما قلنا إذ ينتفع بلبنها و سمنها مع بقاء عينها لكن إذا حكم به حاكم ارتفع الخلاف اه.(کتاب الوقف، مطلب في وقف المشاع المقضي به، ج: ٤، ص: ٣٦٣، مط: سعيد)
و في الدر المختار:(قوله: وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ .والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذالمال.(کتاب الحدود،باب التعزیر،مطلب فی التعزیر باخذالمال ،ج: ٤، ص: ٦١، مط:سعید)