کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے میں کہ میرا بڑا بیٹا 18 ماہ کا ہے، جبکہ دوسرا بیٹا 7 ماہ کا ہے، جس کے ساتھ کچھ جسمانی مسائل ہیں جو بہت توجہ طلب ہیں۔ اور میں اب پھر سے حاملہ ہوگئی ہوں۔ تو کیا ایسی صورت میں اس حمل کو ساقط کرسکتی ہوں؟ اس حمل کی مدت تقریباً ایک ماہ یا کچھ دن کم ہے۔ جو بھی حکم ہو تفصیل سے تحریر فرمائیں ۔
واضح ہو کہ حمل کو چار ماہ مکمل ہونے اور اس میں روح پڑنے سے قبل کسی شرعی عذر کی بنا پر فقہاءِ کرام رحمہم اللہ نے اسقا ط حمل کی گنجائش بیان فرمائی ہے۔ تاہم، اگر کوئی معتبر عذر نہ ہو تو اہل علم نے چار ماہ سے قبل بھی اسقاط حمل کو مکروہ قرار دیا ہے۔لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ حمل کو برقرار رکھنے کی صورت میں واقعۃً سائلہ کے لیے اپنے موجودہ بچوں کی مناسب دیکھ بھال کرنا مشکل ہو ، جس کے نتیجے میں بچوں کی صحت متاثر ہونے یا سائلہ کو اپنی صحت کے بارے میں کسی نقصان کا حقیقی اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں سائلہ کے لیے کسی معتبر ڈاکٹر کے مشورہ سے مذکورہ حمل کو ساقط کرنے کی گنجائش ہوگی۔ بصورت دیگر محض بچوں کے درمیان کم وقفہ ہونے یا موجودہ حالات کی دشواری کی بنا پر اسقاط حمل کی اجازت نہیں ۔
کما فی الشامیة: تحت (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر (ج3،ص،176 مطلب في حكم العزل ط: دار الفكر-بيروت)