السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
۱۔ مفتی صاحب! کیا عورت کا انتقال ڈیلیوری کے چالیس دن کے اندر ہو جانے پر اس عورت کو شہید کا درجہ ملتا ہے ، وہی شہید ہے جو اللہ کے راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوتے ہیں ، یہ کس حدیث سے ثابت ہے؟ مجھے ضرور بتائیے ؟
۲۔ جس بچے کا انتقال ماں کے پیٹ میں ہو جائے وہ بھی آخرت میں اپنے ماں باپ کی بخشش کرائےگا ؟
۳۔ جن بچوں کا انتقال ہو جاتا ہے ان کی روح کہاں رہتی ہے ؟
۴۔ ایک گذارش یہ ہے کہ آپ میرے والد صاحب کے لئے دعا کریں تا کہ وہ شراب چھوڑ دے اور ہدایت پر آجائے , آپ میری اہلیہ مرحومہ اور بیٹی مرحومہ کے لئے بھی دعائے مغفرت کریں۔
۱۔ جس عورت کا انتقال بچے کی ولادت کے دوران یا ایامِ نفاس میں ہو جائے تو ظاہرِ حدیث مبارک کی رو سے وہ بھی حکماً شہید ہے، جبکہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہونے والا حقیقۃً شہید ہے، جس کا درجہ حکمی شہید سے بہت سے اونچا ہے۔
۲۔ جی ہاں! جس بچے کا انتقال ماں کے پیٹ میں ہو جائے یا وہ نا تمام ساقط ہو جائے ، وہ بچہ بھی والدین کے لئے شفاعت کرے گا ۔
۳۔ ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے بچوں کی ارواح عالمِ ارواح میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہوتی ہیں۔
۴۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ سائل کے والد کو ہدایت عطا فرمائے اور اہلیہ اور بیٹی کی مغفرت فرمائے۔آمین!
کما فی مسند احمد : (۲۲۸۵۱) قال رسول اللہ صلی الله عليه و سلم القتيل في سبيل الله شهید ، و المبطون شهید ، و النفساء شهيد ، يجبرها ولدها بسرره الى الجنة اھ (۵/۳۸۶ )-
و في الشامية : تحت (قوله و النفساء) ظاهره سواد ماتت وقت الوضع أو بعده قبل القضاء مدة النفاس اھ (۲/۲۵۲ )-
و فی سنن ابن ماجة : عن معاذ بن جبل " عن النبی صلی الله عليه و سلم قال و الذی نفسی بیده ان السقط ليجبر أمه بسرره إلى الجنة اذا احتسبته (ص : ۱۱۵)-
و فى مشكاة المصابيح : في حديث طويل : فانطلقنا حتى انتهينا إلى روضة خضراء فيها شجرة عظيمة و في أصلها شيخ و صبيان و إذا رجل قريب من الشجرة بين يديه نار يوقدها فصعدا بي الشجرة فأدخلاني دار أوسط الشجرة لم أر قط أحسن منها فيها رجال شيوخ و شباب و نساء و صبيان ثم أخرجاني منها فصعدا بي الشجرة فأدخلاني دار هي [ص:1301] أحسن و أفضل منها فيها شيوخ و شباب فقلت لهما : إنكما قد طوفتماني الليلة فأخبراني عما رأيت قالا : نعم أما الرجل الذي رأيته يشق شدقه فكذاب يحدث بالكذبة فتحمل عنه حتى تبلغ الآفاق فيصنع به ما ترى إلى يوم القيامة و الذي رأيته يشدخ رأسه فرجل علمه الله القرآن فنام عنه بالليل و لم يعمل بما فيه بالنهار يفعل به ما رأيت إلى يوم القيامة و الذي رأيته في الثقب فهم الزناة و الذي رأيته في النهر آكل الربا و الشيخ الذي رأيته في أصل الشجرة إبراهيم و الصبيان حوله فأولاد الناس اھ (2/ 1300)-