کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری اولاد تھیلیسمیا بیماری میں مبتلاء ہے، بڑا بیٹا 12 سال کی عمر میں انتقال کر گیا،دو بیٹیاں اللہ کے فضل و کرم سے صحت مند ہیں، لیکن اب دوسرا بیٹا اسی بیماری میں مبتلا ہے ،اب ڈاکٹرز حضرات کہتے ہیں کہ جب بیوی کا حمل قرار ہو جائے تو اس کے تین ماہ بعد ایک ٹیسٹ کرنا ہے جس میں یہ پتہ چلتا ہے کہ پیٹ میں پلنے والا بچہ اس بیماری کا شکار ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو حمل کو ساقط کرنا پڑے گا ، یہ واضح ہو کہ اس بیماری میں زندگی بجائے خود ایک عذاب ہے ہر دس 10 یا پندرہ دن بعد خون تبدیل کرنا پڑتا ہے، اور اس کے باوجود ۱۰ ، ۱۲ سال سے زیادہ بچے کی عمر نہیں ہوتی، اب از روئے شریعت یہ عمل جائز ہے یا نہیں۔
اگر کوئی ماہر اور دیندار معالج معائنہ کرنے کے بعد یقین یا ظن غالب سے کسی خطرناک اور مہلک بیماری کی تشخیص کر دے تو اس صورت میں حمل کے ایک سو بیس دن یعنی چار ماہ پورے ہونے سے قبل اسے ساقط کرنا جائز اور درست ہے، ورنہ اس سے احتراز لازم ہے۔
ففي الدر المختار: ويكره أن تسقى لإسقاط حملها ... وجاز لعذر حيث لا يتصور اھ (6/ 429)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية اھ (6/ 429) واللہ اعلم بالصواب