میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اسلامی بینکاری مثلاً میزان بنک اسلام میں جائز ہے یا نہیں ؟ کیونکہ اس میں اختلاف ہے ، کچھ علماء اس کے قائل ہیں اور کچھ اس کے خلاف، اور اس سے حاصل شدہ نفع حلال ہے یا حرام ؟
واضح ہو کہ ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک اوربینک اسلامی کے اکثر معاملات شرعی ایڈوائزر کی نگرانی میں اور اصولِ شرعیہ کے موافق ہوتے ہیں ، اس لئے اُن دونوں کے ذریعے سرمایہ کاری کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ اختلاف کی صورت میں احوط یہی ہے کہ بغیر امرِ مجبوری کے اس میں شمولیت سے احتراز کیا جائے۔