ہمارے علاقہ کی مسجد میں مؤذن صاحب کی موجودگی کے باوجود کچھ لوگ ایسے ہیں، جو آگے بڑھ کر اذان دیتے ہیں اور اقامت کرتے ہیں، جب امام صاحب سے اس مسئلہ پر بات کی تو انہوں نے اپنی بے بسی ظاہر کی (یہ لوگ میری بات نہیں مانتے ہیں) مہربانی کر کے اس مسئلہ پر آپ اگر کوئی فتویٰ جاری کریں جو ہم فوٹو کاپی کروا کے مسجد میں لگا دیں تاکہ آئندہ کوئی اس طرح کی حرکت نہ کرے۔
اگر مؤذن موجود ہو اور کسی دوسرے کی اذان واقامت کہنے پر وہ رضامند نہ ہو یا اس کی طرف سے صراحتاً ممانعت ہو تو اس صورت میں کسی دوسرے کا بلا اجازت اذان واقامت کہنا مکروہ ہے اور اگر اس کی طرف سے ناپسندیگی کا اظہار یا ممانعت نہ ہو یا مؤذن موقع پر موجود نہ ہو تو پھر اس میں حرج نہیں۔
ففی الدر المختار:(أقام غير من أذن بغيبته) أي المؤذن (لا يكره مطلقا) وإن بحضوره كره إن لحقه وحشة اھ (1/ 395)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله:كره إن لحقه وحشة) أي بأن لم يرض به (إلی قوله) الأفضل أن يكون المؤذن هو المقيم اهـ أي لحديث «من أذن فهو يقيم» اھ (1/ 395)
وفي البدائع: أن من أذن فهو الذي يقيم وإن أقام غيره فإن کان یتأذّی بذلك یکره لأن اکتساب أذی المسلم مكروه وإن كان لایتأذّی به لا یکرہ اھ (۱/ ۱۵۱)
وفي البحر: وإن أذن رجل وأقام آخر بإذنه لابأس به وإن لم یرض به الأول یکرہ اھ (۱/ ۲۵۷)