السلام علیکم!
الحمد اللہ میں ایک مسلمان ہوں ،اور دیوبندی بھی ہوں، جناب میرا سوال اسلامی بینکنگ اور خصوصاً مرابحہ کے متعلق ہے، اولا ًمجھے مرابحہ اور اس خاص صورت کے درمیان فرق بتائیں، جو میں یہاں لکھ رہا ہوں, جناب میں پاکستان میں ایک سوتی مارکیٹ میں کام کرتا ہوں، جہاں پر سوت کی ابتدائی بزنس کے طور پر تجارت ہوتی ہے ،صورت یہ ہیکہ ایک آدمی جو کپڑے بننے کی مشینوں کا مالک ہے, کو سوت کی ضرورت ہے، اور وہ ہمارے پاس یا دوکان کے مالک کے پاس آتا ہے، اور اسے بتاتا ہے کہ اسے 100 بیگ سوت کے, بطور ادھار چاہئیے ،تو مالک سپنگ ملز سے رابطہ کرتا ہے، اور ان دنوں میں نقدی ریٹ کے بارے میں دریافت کرتا ہے، اور کسٹمر کو بتاتا ہے کہ نقدی ریٹ 1000 ہے، اور میں تمہیں 100 بیگ ادھار 1300 کے ریٹ پر دوں گا۔ جناب کیا یہ اس مرابحہ جیسا (کے قریب قریب) ہے، جس کو اسلامی بنک چلا رہا ہے ، وضاحت فرمائیں اور یہ بھی بتائیں کہ یہ حلال ہے يا حرام؟ اگر حرام ہے تو اس کی متبادل صحیح صورت بھی بتا دیں۔ جزاك الله !
اگر کوئی چیز بیچنے والے کی ملکیت میں آنے کے بعد ایسا معاملہ کیا جائے، تو یہ صورت بلا شبہ مرابحہ کی ہوگی جو جائز ہے، جبکہ مذکور صورت محض وعدہ کی ہے۔
كما في حاشية ابن عابدين: (قوله: لزم كل الثمن حالا) لأن الأجل في نفسه ليس بمال، فلا يقابله شيء حقيقة إذا لم يشترط زيادة الثمن بمقابلته قصدا، ويزاد في الثمن لأجله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصدا اھ (5/ 142)۔
وفیھا أیضاً: تحت (قوله: فإنه إذا ثمنه إلخ) جواب إذا قوله جاز، وعدل عن قول غيره وقومه قيمة ليشمل المثلي. وحاصله: أن ما وهب له ونحوه مما لم يملكه بعقد معاوضة إذا قدر ثمنه وضم إليه مؤنته مما يأتي يجوز له أن يبيعه مرابحة اھ (5/ 133)۔
وفي الدر المختار: (المرابحة) مصدر رابح وشرعا (بيع ما ملكه بما قام عليه وبفضل) اھ(5/ 132) -
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1