السلام علیکم!
کیا قسطوں پر لین دین کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ کیونکہ اس میں یقینی طور پر اشیاء اصل سے زائد قیمت پر بیچی اور خریدی جاتی ہیں ۔ برائے مہربانی اس کا مفصل جواب تحریر فرمائیں۔ کیونکہ آج کل یہ طریقہ مختلف جگہوں پر رائج ہے ۔ جزاک اللہ!
قسطوں پربیچنے کی صورت میں نقد کے مقابلہ میں قیمت میں کچھ زیادتی وصول کرنا بلا شبہ جائز اور اور درست ہے ۔ مگر اس کے لئے درجِ ذیل چند شرائط ہیں، جنہیں ملحوظ رکھنے کی صورت میں قسطوں کا کاروبار شرعاً بھی جائز اور درست ہوتا ہے ۔ وہ شرائط یہ ہیں :
اول یہ کہ عقد کے وقت نقد یا ادھار لینے کا معاملہ طے کیا جائے۔
(۲): كل قیمت بتانے کے بعد کل قسطیں اور ہر قسط کی مقدار بھی متعین لی جائے۔
(۳): اور اگر کسی وجہ سے قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہو جائے ،تو اسپر کچھ جرمانہ وغیرہ بھی وصول نہ کیا جائے ۔ ورنہ یہ عقد جا ئز نہیں رہے گا۔
ففي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يقاطعه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اھ (13/ 13)۔
وفي حاشية ابن عابدين: في البحر حيث قال وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عند مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي (إلی قوله) والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال اھ (4/ 61)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1