میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا قسطوں پر اشیاء کی خرید و فروخت کیجا سکتی ہے ؟
واضح ہو کہ قسطوں پر خرید و فروخت کرنا درج ذیل شرائط کیساتھ جائز ہے:
۱۔ مجلسِ عقد میں ہی یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا۔
۲۔ ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے ۔ ۳۔ یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل قسطیں کتنی ہونگی۔
۴۔ کسی قسط کی تاخیر کیوجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہو۔ چنانچہ ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے قسطوں پر خریداری بلاشبہ جائز اور درست ہے، ورنہ نہیں ۔
ففي بحوث في قضايا فقهية معاصرةـ: أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عيه عند العقد اھ (ص: 12)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: فوق قيمته) أي شراء بثمن مؤجل فوق ما يباع بثمن حال لأن قيمة المؤجل فوق قيمة الحال اھ (4/ 440) والله تعالى اعلم
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1