کیا مندرج ذیل عمل قرآن و حدیث کے مطابق ہے یا پھر بدعت اور شرک ہے؟ ایک عالم صاحب نے میرے گھر کو دیکھ کر کہا کہ اس میں خبیث ہے جسکی وجہ سے آپ لوگوں پر مصیبت اور مرض آتی ہے آپ لوگ یہ عمل کریں چھے ماہ تک(1) سات عدد کلونجی کھانا صبح کے وقت،(2) سبزی میں تین عدد لونگ ڈالنا ،(3) پورے گھر کے نیچے کہ حصہ میں پانی ڈالنا چاروں کونوں میں،(4) سر میں تیل لگانا سوتے وقت،(5) منہ پر گلاب جیل لگا نا سوتے وقت ،(6) ہر جمعرات کو لوبان سلگانا ،(7) ہر جمعہ کو خربوز کی بیچ ڈال کر کوئی بھی حلوہ بنا کر اسے کھانا،(8) دعاء کے کاغذ کو پانی میں ڈال کر روزانہ پینا (9) یہ ساری چیزیں (کلونجی ، لونگ ، پانی، لوبان ، خربوزہ کی بیج ، چمبیلی کا تیل ، گلاب جیل ،ان سب چیزوں میں دعا کو پڑھ کر دم کیا گیا ہے یا پھر اس چیز میں دعا کا دم کیا ہوا ورق ڈالا گیا ہے، مستقل استعمال کرنا ہے اگر کوئی آدمی اس کا استعمال نہیں کرے گا تو خبیث اسکو کپڑے گا یا اس کے کمرے میں گھس جائے گا ،میں مفتیان کرام سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ عمل صحیح ہے کیا قرآن وحدیث میں اسطرح کہ عمل کرنے کی ی اجازت ہے۔ مہر بانی فرما کر جواب دیں۔
دَم کرنے والا اگر متبعِ شریعت ہو اور اس کا دم بھی شرعاً جائز اُمور پر مشتمل ہو، تو مذکور طرزِ عمل میں شرعاً کوئی حرج نہیں، ورنہ اس عمل پر اہتمام کے بجائے کسی متبعِ شریعت معتمد عالم دین عامل کو بھی دکھاکر اس سے مشورہ لیا جاسکتا ہے۔
كما في مرقاة المفاتيح : واما ما كان من الآيات القرآنية والاسماء والصفات الربانية والدعوات المأثورة النبوية فلا بأس الخ (ج۸ ص ۳۲)واللہ اعلم بالصواب