کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ زید کہتا ہے کہ" لکھی ختم "مثلاً ’’ لا الہ الا اللہ‘‘ ایک لاکھ مرتبہ اور ایک لاکھ مرتبہ ’’لاالہ الا أنت الخ ‘‘آخر تک پڑھتے ہیں اور اس کا ایصالِ ثواب اپنے مردوں تک یا دشمن کے زیر کرنے کے لیے پڑھتے ہیں ، یہ ناجائز ہے ، اور عمر کہتا ہے کہ یہ جائز ہے ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا یہ جائز ہے یا ناجائز ؟ قرآن و حدیث و فقہ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
ایصالِ ثواب کے لیے تو بلاشبہ جائز ہے ، البتہ دشمن زیر کرنے کی سلسلے میں پڑھنے سے قبل اس کی پوری تفصیل اور حالات کسی مستند عالم کے سامنے رکھ کر ، اس کا حکمِ شرعی معلوم کر لینا زیادہ بہتر ہے۔
ففی الدر المختار: الأصل أن كل من أتى بعبادة ما ، له جعل ثوابها لغيره و إن نواها عند الفعل لنفسه لظاهر الأدلة . و أما قوله تعالى - ﴿و أن ليس للإنسان إلا ما سعى﴾ (النجم: 39)- أي إلا إذا وهبه له كما حققه الكمال اھ (2/596)۔
و فی رد المحتار: صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية اھ(2/243)۔