کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بندہ ایک پرائیویٹ کمپنی میں بطور اکاؤنٹس مینجر کام کرتا ہے، کمپنی نے آفس میں آنے جانے کیلئے اور ذاتی استعمال کے لئے گاڑی بمع پیٹرول، سی این جی اور مرمت خرچہ کی سہولت مہیا کی ہوئی تھی ،اب کمپنی نے نئی پالیسی متعارف کروائی ہے، جو کہ بدرجہ عہدہ ہے ، بندہ کو cc۱۰۰۰ گاڑی کی اجازت ہے۔
پالیسی درج ذیل ہے:
۱۔ ملازم گاڑی خود خرید کریگا اپنے ذاتی سرمائے سے۔
۲۔ کمپنی ہر ماہ علاوہ تنخواہ حامل گاڑی کو درج ذیل ادا کریگی:
Cc۸۰۰ ۸۴۰۰ + ۲۰۰۰ =۱۰۴۰۰روپے
Cc۱۰۰۰ ۱۶۲۰۰ + ۳۰۰۰ =۱۹۲۰۰روپے
Cc۱۳۰۰ ۲۱۰۰۰ + ۴۵۰۰ =۲۶۵۰۰روپے
کمپنی کی شرائط کے مطابق کے لئے گاڑی لینا لازمی ہے، ورنہ عہدہ کی تنزلی بھی ہو سکتی ہے۔ بندہ ذاتی طور پر گاڑی خرید کرنے کی پوزیشن میں ہر گز نہیں ہے، اس کے لئے ادھار دینے کی کوشش بھی رائیگاں گئی کہ لمبے عرصے اور اقساط کی صورت میں واپسی کے لئے کوئی رضا مند نہیں ہے۔
کیا بندہ موجودہ دور میں اسلامی بینک کی طرف سے پیش کردہ اقساط پر گاڑی لے سکتا ہے یا نہیں؟
اگر بینک گاڑی خرید کر اپنے قبضہ میں لانے کے بعد فروخت کرے، اور قسط وغیرہ کی تاخیر کی صورت میں کوئی جرمانہ وغیرہ بھی نہ لیتا ہو تو اس سے گاڑی خریدنا جائز ہے، چاہے سودی بینک ہو یا غیر سودی یا کوئی عام ، اس لیے متعلقہ بینک سے تفصیل لینے کے بعد اس کا شرعی حکم معلوم کر کے اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے ۔ واللہ اعلم بالصواب !