السلام علیکم! مفتی صاحب غیر مقلد اور اہلِ حدیث میں کیا فرق ہے؟ اور ان کا کیا عقیدہ ہے، براہِ کرم تفصیل سے بیان فرما دیں۔
آج کل غیرمقلد وہ شخص کہلاتاہے جو اجتہاد کی صلاحیت سے محروم ہونے کے باوجود ائمہ سلف خصوصاً ائمہ اربعہ جن کے مجتہد اور منیب ہونے پر تمام سلفِ صالحین کا اتفاق ہے، ان کی ماننے کیلیے تیار نہ ہو اور یہی لوگ اپنے آپ کو اہلِ حدیث کہلواتے ہیں یہ دورِ برطانیہ میں پیدا ہوئے، اس سے پہلے ان کا کوئی وجود نہیں تھا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو مجسمہ کی طرح عرش پر بیٹھا ہوا مانتے ہیں، صحابہ کرام کو معیارِ حق نہیں مانتے، بلکہ اکابر صحابہ کرام (حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ) تک کو بدعتی قرار دیتے ہیں، حدیث کی پیشن گوئی کے مطابق اسلافِ امت پر لعن طعن کرتے ہیں اور مسلمانوں کو حرام میں مبتلا کرنے کیلیے تمام امت کے برخلاف تین طلاق کے باوجود ساتھ رہنے کی ترغیب دیتے ہیں اور آمین و رفع یدین وغیرہ مسائل میں افضل اور غیر افضل کے علمی اختلاف کو ’’کفر واسلام‘‘ کا اختلاف قرار دے کر مسلمانوں میں انتشار پھیلاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
ففي سنن الترمذي: عن علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: إذا فعلت أمتي خمس عشرة خصلة حل بها البلاء فقيل: وما هن يا رسول الله؟ قال: إذا كان المغنم دولا، والأمانة مغنما، (ٳلی قوله) ولعن آخر هذه الأمة أولها، فليرتقبوا عند ذلك ريحا حمراء أو خسفا ومسخا اھ (۲/۴۴)۔
وفي حاشیته: ولعن آخر ھذہ الامة ٲولھا، ٲي اشتغل الخلف بالطعن في السلف الصالحین، والائمة المھتدین کذا قاله السیر، قال الطیبي: ٲي طعن الخلف في السلف وذکروھم بالسوء، ٲو لم یقتدوھم اھ (۲/۴۴) واللہ أعلم بالصواب!