مجھے سعودی عرب میں سلفیوں کے بارے میں جاننا ہے ۔ کیا وہ سعودیہ میں کثر ت سے ہیں ؟ کیا سعودیہ کے مفتی اعظم سلفی ہیں ؟ اگر سعودیہ میں ان کی کثر ت ہے تو حدیث کی رو سے وہ حق پر ہیں، کیونکہ حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دجال مکہ اور مدینہ میں کبھی داخل نہ ہو سکے گا، لہٰذا میں کہہ سکتا ہوں کہ اسلام مکہ اور مدینہ میں اصل اور غیر تبدیل شدہ رہے گا ۔
سعودی عرب کے لوگ امام احمد بن حنبل ؒ کے مقلد ہیں اور وہاں کے عام باشندے چونکہ امام ابن تیمیہ ؒ ،ابن قیمؒ اور شیخ عبد الوہا ب نجدیؒ کو پسند کر تے ہیں، اس لیے وہ اپنے آپ کو سلفیت کی طرف منسوب کرتے ہیں (نہ کہ غیر مقلدیت کی طرف ) اس لیے سعودیہ میں اقتصادی ترقی کے پیش نظر ، موجود دور میں برصغیر کے نام نہاد اہل حدیث ، غیر مقلد ین نے موقع کو غنیمت جان کر اہل حدیث کا نا م ترک کرکے اپنے مدارس ، علمی اداروں اور دعوتی مراکز کا نام اہل حدیث سے بدل کر سلفی رکھ لیا، اس طرح انہوں نے عربوں سے ہم آہنگی پیدا کر لی ۔ لہٰذا اس غلط فہمی میں ہر گز مبتلا نہ ہو جاں کہ سعودیہ میں سلفیت بمعنی غیر مقلدیت کی کثرت ہے اور یہ ان کے حق ہو نے کی دلیل ہے ۔ جبکہ دجال کے وہاں داخل نہ ہو نے کا یہ مطلب نہیں کہ وہا ں کوئی گناہ کا کام یا غیر صحیح عقیدہ کا آدمی جا ہی نہیں سکتا اور کسی دور میں بھی کسی ایک عالم نے بھی مدینہ یا مکہ میں رہنے کو کسی کے صحیح یا غلط ہونے کا معیار نہیں بنایا اور نہ ہی قرآن و سنت کی رو سے یہ کو ئی دلیل شرعی ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب!