کیا اہل حدیث باطل فرقہ ہے یا کافر ، یا اسلام سے خارج ۔عین نوازش ہوگی۔
واضح رہے کہ اہل حدیث کے متعلق جہاں تک ہماری معلومات ہیں ،اہل سنت ولجماعت اور ان لوگوں میں بہت سے اصولی و فروعی اختلاف ہیں یہ لوگ بھی اللہ تعالیٰ کو فرقہ مجسمہ کی طرح عرش پر بیٹھا ہوا مانتے ہیں ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معیار ِ حق نہیں مانتے اسلاف امت خصو صا ً ائمہ اربعہ علیہم الرحمۃ پر سب وشتم اور ان پر طعن وتشنیع ان کا وتیرہ ہے ائمہ اربعہ کی تقلید جس کے وجوب پر امت کا اجما ع ہو چکا ہے کو ناجائز اور بدعت، بلکہ بعض تو شرک تک کہ دیتے ہیں بہت سے اجماعی مسائل کے منکر ہیں صحابہ کرام کا بیس(20) رکعت تراویح کے سنت ہونے پر اجماع ہے جبکہ یہ لوگ اُسے بدعت عمری قرار دیکر سرے سے رد کردیتے ہیں جمعہ کی پہلی اذان کو بدعت عثمانی کہتے ہیں ایک مجلس میں تین طلاق کا وقوع جو احادیث صحیحہ سے ثابت اور جس پر صحابہ کرام وجمہور علماء کا اجماع ہے انکار کرتے ہیں اور ایک طلاق کا فتویٰ صادر کر کے زنا کاری اور بدکاری میں مبتلا کرتے ہیں اور ان میں سے بعض چار سے زیادہ عورتوں سے نکاح کو جائز کہتے ہیں اس وجہ سے یہ فرقہ اگر چہ کافر اور اسلام سے خارج نہیں مگر مذکور نظریا ت کی بناء پر باطل و گمراہ اور اہل سنت والجماعت سے خارج ضرور ہے ۔ تفصیل کیلیے امداد الفتاوٰی ج5ص294تا300)مصنف حضرت مولانا حکیم الامت اشرف علی تھانوی ؒ اور اختلاف امت اورصراط مستقم ( ص29تا 37) مصنف حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ ملاحظہ ہو۔ واللہ اعلم بالصواب!