کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کے چار بھائی ہیں اُن میں سے ایک بھائی غیر مقّلد بن گیا اور عرصہ دو سال سے وہ دیوبند ی سے غیر مقلد ہوا اور اپنا بیٹا بھی غیر مقلّد کے ہاں پڑھا رہا ہے اور یہ آدمی جو غیر مقلد ہے لوگوں کو کہتا ہے کہ میں پہلے گمراہ تھا ( یعنی دیوبندی تھا) اب میں اصل دین پر آگیا ہوں ( یعنی غیر مقلد ہونے کے بعد) اور اکابرینِ دیوبند اور دیوبندیوں کے ساتھ سخت نفرت ہے۔
ایسے متعصب شخص کے بارے میں قرآن و حدیث و فقہ کی روشنی میں وضاحت مقصود ہے کہ ایسے شخص کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا اور اس کو بیٹی دینا اور لینا جائز ہے یا نہیں ؟
اور جو اس سے رشتہ طے کر رہے ہیں وہ بھی دیوبندی علماء اور قراء حضرات ہیں اور اس کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں، اب ایسی صورت میں ان کے ساتھ رشتے قائم کرنا اور ان سے میل جول رکھنا اور ان کے پیچھے نمازیں پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
مذکور شخص تقلیدِ شرعی کو ، جو صحابہ و تابعین کے دور سے جاری اور نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہے ،چند غالی اور جمود کا شکار اور سلف بیزار لوگوں کے بہکاوے میں آکر گمراہی قرار دینے اور علماءِ حقانی کو برا کہنے کی وجہ سے ،بلاشبہ ضلالت اور غیر سبیل المؤمنین پر عمل پیرا ہے اس پر لازم ہے کہ اہلِ علم سے رجوع کر کے اپنی اصلاح اور پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا ازالہ کر کے قرآن و سنت کے موافق زندگی گزارنے کی فکر کرے اگر وہ اس پر آمادہ نہ ہو اور اپنے مذکور طرزِعمل سے باز نہ آئے تو اس کے رشتہ دار اور اہلِ محلہ اسے اعتدال پر لانے کے لیے اس سے قطع تعلق بھی ہو سکتے ہیں، جبکہ ایسے لوگوں کو رشتہ دینے اور ایسے ذہن والی لڑکی کو اپنے گھر لانے اور ایسے شخص کی امامت میں نماز پڑھنے سے احتراز بہرحال بہتر ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ [النحل: 43]۔
و فی تفسير روح المعاني: و استدل بها أيضا على وجوب المراجعة للعلماء فيما لا يعلم.
و في الإكليل للجلال السيوطي أنه استدل بها على جواز تقليد العام في الفروع و انظر التقييد بالفروع فإن الظاهر العموم لا سيما إذا قلنا إن مسألة المأمورين بالمراجعة فيه و السؤال عنها من الأصول، و يؤيد ذلك ما نقل عن الجلال المحلي أنه يلزم غير المجتهد عاميا كان أو غيره التقليد للمجتهد لقوله تعالى: ﴿فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ﴾ اھ(7/ 387)۔
و فی مرقاة المفاتيح: و عن حذيفة - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: ( ’’إني لا أدري ما بقائي فيكم؟ فاقتدوا باللذين من بعدي أبي بكر وعمر‘‘ ) . رواه الترمذي.
و فی المرقاة تحت قوله: (و عن حذيفة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: (إني لا أدري ما بقائي فيكم) ؟ و في رواية إلا قليلا، قال الطيبي: ما استفهامية أي: لا أدري كم مدة بقائي فيكم قليل أم كثير و فيه تعليق (فاقتدوا باللذين): باللامين للإشعار لأنه تثنية الذي (من بعدي: أبي بكر وعمر) بدل من اللذين، و في رواية و أشار إلى أبي بكر و عمر. (رواه الترمذي) و في الجامع: ( ’’اقتدوا باللذين من بعدي أبي بكر و عمر‘‘) . رواه أحمد و الترمذي و ابن ماجه عن حذيفة و زاد الحافظ أبو نصر القصار: (فإنهما حبل الله الممدود، فمن تمسك بهما تمسك بالعروة الوثقى لا انفصام لها اه(9/ 3913)۔
و فی مشكاة المصابيح: و عن إبراهيم بن ميسرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: ’’من وقر صاحب بدعة فقد أعان على هدم الإسلام‘‘ . رواه البيهقي في شعب الايمان مرسلا اه (1/ 66)۔
و فی مرقاة المفاتيح: قال: و أجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد و صلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته و بعده، و رب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه. و في النهاية: يريد به الهجر ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب و موجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة و الصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين، فإن هجرة أهل الأهواء و البدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة و الرجوع إلى الحق اھ(ج8 ص3147 دار الفكر، بيروت)۔
و فی الدر المختار: و في النهر عن المحيط: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة،
و فی رد المحتار: (قوله نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع لحديث ’’من صلى خلف عالم تقي فكأنما صلى خلف نبي‘‘ اه(1/ 562)۔