یا رسول اللہ کہنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو مدینہ منورہ میں جا کر روضہ اقدس کے سامنے کیوں جائز ہے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنتے ہیں تو پھر یہاں بیٹھ کر کیوں نہیں سنتے؟
سوال کا مذکور انداز آپ علیہ السلام کے حق میں بے باکانہ اور گستاخی پر مبنی معلوم ہوتا ہے، جس سے احتراز چاہیے، جبکہ سوال میں مذکور ندائیہ کلمات کے حکم میں تھوڑی سی تفصیل ہے وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ندائیہ کلمات استعمال کرنے کی مختلف صورتیں ہیں جن کا حکم بھی جدا ہے۔
۱: تخیل میں پکارنا ، جیسے شعراء مختلف چیزوں کو خطاب کرتے ہیں ، مگر کسی کا یہ عقیدہ نہیں ہوتا کہ ان کا مخاطب ان کی بات کو سنتا اور اس کا جواب دیتا ہے۔
۲: فرط محبت میں پکارنا جبکہ واقعۃً ندا مقصود نہ ہو۔
۳: ’’الصلوة والسلام عليك يا رسول الله ‘‘ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس درود کو بارگاہ اقدس میں پہنچا دیں گے۔
یہ تینوں صورتیں شرعاً جائز ہیں بشرطیکہ اس کے فعل سے کسی دوسرے کا عقیدہ خراب ہونے کا اندیشہ نہ ہو اور ان میں کسی صورت کا مرتکب مشرک بھی نہیں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر ناظر ہونے کے عقیدے کے ساتھ یارسول الله " کہنا یا "صیغہ ندا "کے ساتھ درود پاک پڑھنا جیسا کہ اس دور کے فرقہ مبتدعہ بریلویہ کا عقیدہ ہے شرعاً نا جائز ہے ۔