السلام علیکم! الله جل جلالہ میری بچی کو آباد رکھے، اس کی پیدائش کے دوران میری بیوی کا اگلے دن، انتقال ہو گیا ہسپتال میں ہی، میں قرآن کی روشنی میں یہ جانتا چاہتا ہوں جیسا کہ ڈاکٹر مجھے یہ کہ رہے ہیں کہ وہ مری نہیں، بلکہ وہ شہید ہے، کیونکہ وہ ایک حادثے میں فوت ہوئی ہے، لہٰذا وہ شہید شمار ہوگی ، کیا آپ مجھے قرآنی آیات کے حوالہ جات کے ساتھ اس سلسلے میں جس سے اس کا شہید ہونا واضح ہو جائے ، وہ انتہائی رحم دل اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرنے والی ، نماز پڑھنے والی اور با قاعدگی سے روزے رکھتی تھی ۔
میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ میں اپنی بچی کا نام اپنی بیوی کے نام پر رکھنا چاہتا ہوں یعنی (عظمی) لیکن میرے والد صاحب کا کہنا ہے کہ یہ نام اس کے لیے بھاری ہے، براہ ِکرم اس سلسلے میں میری راہ نمائی فرمائیں ، اس کی پیدائش ۶ ستمبر ۲۰۱۱ ء کو فجر کی نماز کے بعد ہوئی ہے۔
بچہ پیدا ہونے پر جس عورت کا انتقال ہو جائے وہ بھی بحکمِ شہید ہے بایں طور کہ آخرت کے اعتبار سے اس کو بھی شہید جیسا اجر ملے گا ، جیسا کہ حدیث مبارکہ میں عبادة بن صامتؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت کے ساتھ میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو اس موقع یہ تو پر آپ ﷺ نے تین مرتبہ صحابہ کرام سے سوال کیا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ میری امت کے شہید کون ہیں ؟ اس پر تمام صحابہ خاموش رہے، ؓ عبادہ بن صامت فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ آپ ہی بتا دیں ، چنانچہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کیا جانے شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں فوت ہونے والا شہید ہے، اور نفاس والی عورت بھی شہید ہے کہ اُسے اس کا بچہ کھینچ کر جنت میں لیجاتاہے۔
۲۔ بیٹی کا نام بیوی کے نام پر رکھنا بھی جائز ہے، جبکہ عظمی کا لفظ بزرگی و بڑائی کے معنی میں مستعمل ہے، اس بناء پر سائل اپنی بچی کو اس نام سے موسوم کر سکتا ہے، بظاہر اس میں کوئی قباحت نہیں، تاہم اگر والدین کو یہ نام پسند نہ ہو تو ان کی منشاء کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی دوسرا اچھا اور صحابیات وغیرہ کے ناموں میں سے رکھنا بھی بہتر اور اولی ہے۔
كما في مسند أحمد: عن يعلى بن شداد قال: سمعت عبادة بن الصامت يقول: عادني رسول الله صلى الله عليه وسلم في نفر من أصحابه فقال: " هل تدرون من الشهداء من أمتي؟ "، مرتين أو ثلاثا، فسكتوا. فقال: عبادة أخبرنا يا رسول الله. فقال: " القتيل في سبيل الله شهيد، والمبطون شهيد، والمطعون شهيد، والنفساء شهيد يجرها ولدها بسرره إلى الجنة " (37/ 448)
وفي سنن أبي داود: عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم» (4/ 287)