میں نے قرض پر ایک گھر حاصل کیا ہے، اور ہر ماہ اس کی قسط ادا کرنی ہوگی، کیا یہ حلال ہے یا حرام ؟
ادھار اور قسطوں پر بھی مکان خرید نا شرعاً جائز اور درست ہے، البتہ اس میں درجِ ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:
(1) مجلسِ عقد میں ہی یہ طے ہوا ہو کہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا۔
(۲) جتنی قسطیں بھی ہوں وہ متعین کر دی گئی ہوں۔
(۳) کسی قسط کے شارٹ یا مؤخر ہونے کی وجہ سے کوئی جرمانہ نہیں لیا جائیگا ورنہ یہ معاملہ شرعاً جائز نہیں۔
كما في بحوث في قضايا فقهية معاصرة: البيع بالتقسيط بيع بثمن مؤجل يدفع إلى البائع في أقساط متفق عليها اھ (ص: 11)۔
وفي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اھ(13/ 13)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1