السلام علیکم ! پچھلے نو سال سے میرے شوہر بارہا یہ الفاظ کہہ چکے ہیں کہ تم اگر اس کمرے سے گئی تو رشتہ ختم وغیرہ ،کیا اس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ؟جبکہ میں چلی گئی ،اس کے علاوہ یہ کہ تم کہو تو میں تمہیں تین لفظ بول دوں ،یا خلع کیلئے فائل کردو۔
سائلہ کے شوہر ان الفاظ "کہ تم کہو تو میں تمہیں تین لفظ بول دوں یا تم خلع کیلئے فائل کردو "سے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،جبکہ "تم اگر اس کمرے سے چلی گئی تو رشتہ ختم سے شوہر کی کیا مراد تھی اس کی وضاحت لکھ کر سوال دوبارہ ای میل کردیں تو ان شاء اللہ حکم شرعی سے بھی آگاہ کردیا جائے گا ۔
کمافی الھدایة:واماالضرب الثانی وھو الکنایات لایقع بھا الطلاق الا باالنیة او بدلالة الحال لانھا غیر موضوعة الطلاق بل تحتمل وغیرہ فلابد من التعیین او دلالته اھ (2/373)۔واللہ اعلم بالصواب
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0