کیا بغیر داڑھی والا آدمی اذان اور تکبیر کہہ سکتا ہے ؟
داڑھی منڈے کی اذان و اقامت کو فقہاء نے مکروہ لکھا ہے، اس لیے داڑھی والے کے ہوتے ہوئے اسے ہی اذان و اقامت کہنی چاہیئے، تاہم اگر داڑھی منڈا بھی اذان واقامت کہہ دے، تو ان کا اعادہ کرنا لازم نہیں۔
ففي الهندية: ويكره اذان الفاسق ولا یعاد هكذا في الذخيرة اھ (54/1)
وفي الدر المختار: ( ويكره أذان جنب و اقامته واقامة محدث لا أذانه )على المذهب (و) أذان (إمرأة ) وخنثى ) و فاسق) ولو عالماً اھ (392/1)