تصویر سازی

حضورؑ کی شبیہ بنانے اوراسے گھر میں لٹکانے کا حکم

فتوی نمبر :
16331
| تاریخ :
2020-10-26
معاشرت زندگی / فنون و حرفت / تصویر سازی

حضورؑ کی شبیہ بنانے اوراسے گھر میں لٹکانے کا حکم

میرا آپ سے یہ سوال تھا کہ میں نے حضورﷺ کی تصویر اپنے نانا کے گھر میں دیکھی ہے، آپ کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بھی ہیں، کیا اس قسم کی تصویر کو لٹکانا حرام ہے ؟وہ تصویر اس کے پیر صاحب نے اس کو بناکر دی تھی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حضورﷺکی شیبہ اور خاکہ بنانا نہ صرف یہ کہ اس میں آپ علیہ السلام کی بے ادبی اور تعظیم کی خلاف ورزی ہے، بلکہ اس طرح تصویر سازی شرعاًناجائزوحرام عمل بھی ہے اور اگر کسی محترم ہستی کی شبیہ بنائی جائے تو اس کی قباحت و شناعت اور بھی بڑھ جاتی ہے، جس گمراہ پیر نے یہ عمل کیاہے، وہ سخت گناہ گار ہے، سائل کے نانا پر لازم ہےکہ اس طرح کی تصویر کو فوراً اتار دے اور آئندہ کیلیے ایسے ناجائز امور سےمکمل احتراز کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشكاة المصابيح: عن أبي طلحة قال : قال النبي - صلى الله عليه وسلم - : " لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا تصاوير " متفق عليه - (2 / 517)
و فی مشكاة المصابيح: وعنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " أشد الناس عذابا يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله " متفق عليه (2 / 518) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 16331کی تصدیق کریں
0     826
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات