تصویر سازی

غیر مسلم کو لکڑی کے جانور اور انسانوں کے کھلونے فروخت کرنا

فتوی نمبر :
36517
| تاریخ :
2019-01-22
معاشرت زندگی / فنون و حرفت / تصویر سازی

غیر مسلم کو لکڑی کے جانور اور انسانوں کے کھلونے فروخت کرنا

اگر کوئی مسلمان آدمی غیر مسلم کو لکڑی کے بنے جانور اور انسانوں کے کھلونے فروخت کرنا چاہتا ہو جس کا استعمال وہ اپنے مذہبی رسومات میں کرنا چاہتا ہو جیسے عبادات اور جادو وغیرہ کیلئے، کیا ایسی چیز ہم ان کو بیچ سکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی جاندار کے ایسے مجسمہ یا تصویر کو فروخت کرنا جس میں اس کے سر سمیت چہرہ کے تمام اعضاء موجود ہوں اور خاص کر جب اسے عبادات یا جادو وغیرہ کیلئے استعمال کرنے کا یقین ہو تو ایسا کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے لہٰذا اس طرح کے جانور یا انسانی شکل کے کھلونے فروخت کرنے سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی أحکام القرآن للجصاص: تحت قول اللہ تعالیٰ: ﴿ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان﴾ نھی عن معاونۃ غیرنا علٰی معاصی اللہ تعالٰی۔ اھـ (ج٢، ص٣٠٣)۔
وفی الدر المختار: قلت: قدمنا ثمۃ معزیًا للنھر أن ما قامت المعصیۃ بعینہ یکرہ بیعہٗ تحریمًا والإفتنزیھًا، فلیحفظ توفیقًا۔ اھـ (ج٦، ص٣٩١)۔
وفی فقہ البیوع: ویدخل فی ہذا القسم (بیع اٰلات الملاھی) بیع الأصنام والصور المجسدۃ (إلی قولہ) فبیع غیر المجسدۃ ممنوع فی مذھب الجمھور ویدل علٰی ذلک أن رسول اللہ ﷺ حرم بیع الأصنام۔ اھـ (ج١ ص٣٢٠) واللہ أعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 36517کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات