اگر کوئی مسلمان آدمی غیر مسلم کو لکڑی کے بنے جانور اور انسانوں کے کھلونے فروخت کرنا چاہتا ہو جس کا استعمال وہ اپنے مذہبی رسومات میں کرنا چاہتا ہو جیسے عبادات اور جادو وغیرہ کیلئے، کیا ایسی چیز ہم ان کو بیچ سکتے ہیں؟
کسی جاندار کے ایسے مجسمہ یا تصویر کو فروخت کرنا جس میں اس کے سر سمیت چہرہ کے تمام اعضاء موجود ہوں اور خاص کر جب اسے عبادات یا جادو وغیرہ کیلئے استعمال کرنے کا یقین ہو تو ایسا کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے لہٰذا اس طرح کے جانور یا انسانی شکل کے کھلونے فروخت کرنے سے احتراز لازم ہے۔
فی أحکام القرآن للجصاص: تحت قول اللہ تعالیٰ: ﴿ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان﴾ نھی عن معاونۃ غیرنا علٰی معاصی اللہ تعالٰی۔ اھـ (ج٢، ص٣٠٣)۔
وفی الدر المختار: قلت: قدمنا ثمۃ معزیًا للنھر أن ما قامت المعصیۃ بعینہ یکرہ بیعہٗ تحریمًا والإفتنزیھًا، فلیحفظ توفیقًا۔ اھـ (ج٦، ص٣٩١)۔
وفی فقہ البیوع: ویدخل فی ہذا القسم (بیع اٰلات الملاھی) بیع الأصنام والصور المجسدۃ (إلی قولہ) فبیع غیر المجسدۃ ممنوع فی مذھب الجمھور ویدل علٰی ذلک أن رسول اللہ ﷺ حرم بیع الأصنام۔ اھـ (ج١ ص٣٢٠) واللہ أعلم بالصواب