ڈیجیٹل تصویر کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ آج کل موبائل سے جو تصویر کھینچی جاتی ہے وہ جائز ہے یا نہیں؟ اور جن تصویرں یا scatches بنانے سے منع کیا گیا ہے اس میں ڈیجیٹل فوٹو بھی آتے ہیں یا نہیں؟ راہنمائی فرما دیں شکریہ۔
واضح ہو کہ جاندار کی جن تصاویر کو خارج میں دیکھنے کی اجازت ہو اگر ان کی تصاویر صرف اسکرین کی حد تک محدود ہوں اور بے حیائی اور فحاشی کی نشر و اشاعت کا سبب بھی نہ ہو ں ،ان کا باقاعدہ پرنٹ آؤٹ نہ لیا جائے تو ان تصاویر کا تصاویرِ محرمہ کے تحت داخل ہونے میں اہل ِعلم کا اختلاف ہے ، اور بعض اہل علم کی تحقیق کے مطابق وہ تصاویر محرمہ میں داخل نہیں ، اس لیے ان حضرات کے قول کو سامنے رکھتے ہوئےموبائل کے ذریعہ ان جانداروں کی تصاویر لینا جن کا نفس الامر اور خارج میں دیکھنے کی اجازت ہو ،مباح ہے ، بشرطیکہ یہ تصاویر ڈیجیٹل ڈیوائس تک محدود رہیں اور کسی کاغذ وغیرہ پر ان کا پرنٹ آؤٹ نہ لیا جائے ، تاہم آج کل تصویر کشی اور ویڈیوز بنانا جس قدر عام ہو رہا ہے اس سے عوام الناس کے دل سے تصویر کی حرمت اور اس کی برائی نکلتی جا رہی ہے ،اس لئے اس سے بھی اجتناب کرنا بہرحال افضل اور بہتر ہے جبکہ کسی بھی جاندار کا خاکہ اگر باقاعدہ کسی کاغذ وغیرہ پر ڈیزائن کیا جائے یا اسمیں فحاشی اور عریانی والے عنصر بھی شامل ہوں تو اس کا ڈیزائن کرنا شرعا ًبھی حرام ہوگا ، جس سے اجتناب لازم ہے ۔
کما فی مشکاۃ المصابیح : عن عائشۃ رضی اللہ عنہا ان النبی ﷺ قال : اشد الناس عذابا یوم القیامۃ بخلق اللہ ( باب التصاویر ، ج : 8 ، ص : 266 ، ط : حقانیہ )
و فی مرقاۃ الفاتیح : قال اصحابنا و غیرھم من العلماء : تصویر صورۃ الحیوان حرام شدید التحریم ، وھو من الکبائر لانہ متوعد علیہ بھذا الوعید الشدید المذکور فی الاحادیث ، سواء صنعہ فی ثوب او بساط او درھم او دینار او غیر ذلک ( باب التصاویر ، ج : 8 ، ص : 266 ، ط: حقانیہ )
و فی تکملۃ فتح الملھم : قال المرداوی فی الانصاف ( 474 / 1 ) " یحرم تصویر ما فیہ روح، ولا یحرم تصویر الشجر و نحوہ ۔ والتمثال مما لا یشبہ ما فیہ روح ، علی الصحیح من المذاھب، یحرم تعلیق ما فیہ صورۃ حیوان، و ستر الجدار بہ و تصویرہ علی الصحیح من المذھب " اھ (باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان و تحریم اتخاذ ما فیہ، ج : 4 ، ص : 159 ، ط : دار العلوم کراچی )
و فی تکملۃ فتح الملھم : اما التلفزون و الفدیو فلا شک فی حرمۃ استعمالھا بالنظر الی ما یشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ من الخلاعۃ والمجون ، والکشف عن النساء المتبرجات او العاریات ، وما الی ذلک من اسباب الفسوق، ولکن ھل یتاتی فیھما حکم التصویر بحیث اذا کان التلفزیون او الفیدیو خالیا من ھذہ المنکرات باسرھا ، ھل یحرم بالنظر الی کونہ تصویرا ؟ فان لھذا العبد الضعیف عفا اللہ عنہ فیہ وقفۃ : وذلک لان الصورۃ المحرمۃ ما کانت منقوشۃ او منحوتۃ بحیث یصبح لھا صفۃالاستقرار علی شیء ، وھی الصورۃ التی کان الکفار یستعملونھا للعباد ، اما الصورۃ التی لیس لھا ثبات و استقرار و لیست منقوشۃ علی شیء بصفۃ دائمۃ فانھا بالظل اشبہ منھا بالصورۃ و یبدوا ان صورۃ التلفزون و الفدیو لا تستقر علی شیء فی مرحلۃ من المراحل ( باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان ، ج : 4 ، ص : 165 ، ط : دارالعلوم کراتشی )
و فی الدر المختار : ( و لبس ثوب فیہ تماثیل ) ذی روح وفی رد المحتار تحت قولہ : ( ولبس ثوب فیہ تماثیل ) وظاھر کلام النووی فی شرح المسلم الاجماع علی تحریم صورۃ الحیوان ، و قال : وسواء صنعہ لما یمتھن او لغیرہ ، فصنعتہ حرام بکل حال لان فیہ مضاھاۃ لخلق اللہ تعالی ، و سواء کان فی ثوب او بساط او دراھم و اناء و حائط و غیرھا ( باب ما یفسد الصلوۃ و ما یکرھ فیھا ، ج : 1 ، ص : 647 ، ط : سعید )