السلام علیکم! آج کل موبائل فون اور لیپ ٹاپ پر کچھ ایسے ایپس اور سوفٹ وئیرز آگئے ہیں،جن کی مدد سے بچوں کے لئے کارٹونز بنائے جارہے ہیں،اسلامی کارٹونز بھی بنتے ہیں،شکلیں بھی بنائی جاتیں ہیں اور ان سے کمایا جاتا ہے،کیا یہ سب درست ہے؟
سائلہ نے مذکور ایپس اور سوفٹ ویئر پر کارٹون بنانے اور اسکے ذریعے پیسے کمانے کے طریقہ کار کی مکمل تفصیل ذکر نہیں کی تاکہ اسکے مطابق جواب دیاجاتا ،تاہم اگر یہ کارٹون کسی قسم کی بے حیائی پرمشتمل نہ ہوں اوراسکے ذریعے کمائی کے طریقہ کار میں بھی شرعی اصولوں کا لحاظ رکھاجاتا ہو توایسی صورت میں یہ کارٹون بنانے اور اسکے ذریعے پیسے کمانے کی گنجائش ہوگی ۔
كما في تكملة فتح الملهم : أما التلفزون و الفديو فلا شك في حرمة استعمالهما بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة من الخلاعۃ والمجون ، والکشف عن النساء المتبرجات او العاریات ، و ما الی ذلک من اسباب الفسوق ،ولکن ھل یتاتی فیھما حکم التصویر بحیث اذا کان التلفزیون او الفیدیو خالیا من ھذہ المنکرات باسرھا ، ھل یحرم بالنظر الی کونہ تصویرا؟ فان لھذا العبد الضعیف ۔عفااللہ عنہ۔ فیہ وقفۃ : وذلک لان الصورۃ المحرمۃ ما کانت منقوشۃ او منحوتۃ بحیث یصبح لھا صفۃ الاستقرار علی شیء ،وھی الصورۃ التی کان الکفار یستعملونھا للعبادہ ،أما الصورة التي ليس لها ثبات و استقرار و ليست منقوشة على شيئ بصفة دائمة فانها بالظل اشبه منها بالصورة و يبدوا أنَّ صورة التلفزون و الفديو لا تستقر على شيئ في مرحلة من المراحل ـ (4 / 162)۔