میرا بچوں کے ریڈی میڈ کپڑوں کا کام ہے ،اور میں نے دکان پر یہ سٹیکر لگایا ہے ’’خریدا ہوا مال واپس نہیں ہوگا‘‘اور بیچی ہوئی چیز واپس نہیں لیتا، کیا یہ صحیح ہے؟ کیونکہ اکثر گاہک خرید کر لے جاتے ہیں، اور پھر کچھ دنوں بعد واپس دینے آتے ہیں کہ گھر والوں کو پسند نہیں آرہا ،یا کوئی اور چیز اچھی لگی ،تو وہ لے لی ہے، اب یہ واپس لے لو ۔ رہنمائی فرمائیں۔
دکان پر لگے ہوئے سٹیکر پڑھنے یا گاہک کو یہ معلوم ہونے کے بعد کہ یہاں سے خریدا ہوا مال واپس نہیں ہوگا ،پھر اس کے بعد خریداری کے وقت اگر سائل اور خریدار کے درمیان کپڑوں کی واپسی کے متعلق کوئی بات باقاعدہ طے نہ ہو جائے، اور فروخت شدہ کپڑے میں کوئی عیب بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں خریدار یا اس کے اہل و عیال کو کپڑے پسند نہ آنے کی وجہ سے سائل کے ذمہ ان کپڑوں کو واپس لینا کوئی لازم نہیں، البتہ اس کے باوجود اگر سائل خرید ار کا مال واپس یا تبدیل کر دے، تو اللہ کے ہاں اجر و ثواب کا باعث ہے۔
ففي الدر المختار: (وهي) مندوبة للحديث وتجب في عقد مكروه وفاسد بحر. وفيما إذا غره البائع يسيرا نهر بحثا فلو فاحشا له الرد كما سيجيء اھ (5/ 124)۔
وفي الفتاوى الهندية: وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية كذا في الهداية اھ (3/ 8) -
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1