السلام علیکم!
چھوٹا بچہ جس کی عمر ۱۴ سال ہے یا کم ہے، اذان دے سکتا ہے ؟ اور تکبیر بھی پڑھ سکتا ہے ؟ جبکہ باشرع افراد کھڑے ہوں۔
چودہ سال کی عمر کے بچے عموماً عاقل و بالغ یا قریب البلوغ ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے بچے کا اذان دینا درست ہے، ہاں! اگر کوئی دوسرا سمجھدار بڑی عمر کا شخص موجود ہو اور کلماتِ اذان درست ادا کرنے پر وہ قادر ہو تو اُسے اذان دینا زیادہ بہتر ہے۔
فی الدر المختار : (و يجوز) بلا كراهة (أذان صبي مراهق و عبد) (إلی قوله) (و يكره أذان جنب (إلی قوله) (و سكران) و لو بمباح كمعتوه و صبي لا يعقل اھ (1/ 392)-
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله : بلا كراهة) أي تحريمية لأن التنزيهية ثابتة لما في البحر عن الخلاصة أن غيرهم أولى منهم . اهـ . (1/ 391)-
و فی البحر : و أما العقل فینبغی أن یکون شرط صحته ، فلا یصح اذان الصبی الذی لا یعقل (إلی قوله) و أما الصبی الذی یعقل فأذانه صحیح من کراهة إلا أن أذان البالغ أفضل اھ (۱/ ۲۶۴)-