میں ایک سنی مسلم ہوں، مجھے اپنے گھر کے متعلق ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے،میرے پاس مکان نہیں ہے،ہمارے شہر میں ایک ہاؤسنگ اسکیم جو کہ قسطوں پر مکان دے رہی ہے،اگر نقد مکان کی قیمت ۱۰۰ روپے ہے ،تو قسطوں پر اس کی قیمت 130 روپے ہے، مجھے معلوم یہ کرنا ہے کہ اس طرح کی قسطیں جائز ہیں؟ کیا یہ سود ہے یا نہیں؟
قسطوں پر مکان لینا شرعاً جائز اور درست ہے، البتہ اسمیں درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے :
(1) مجلس عقد میں ہی یہ طے ہو جائے کہ معاملہ قسطوں پر ہوگا ۔
(۲) جتنی قسطیں ہوں، وہ بھی متعین کر دی جائیں۔
(۳) کسی قسط کے مؤخر ہونے کی وجہ سے مزید کوئی جرمانہ وغیرہ بھی نہ لگایا جائے۔ اور اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط بھی نہ پائی جائے، تو پھر اس طرح کے قسطوں والےکام سے احتراز لازم ہوگا۔
كما في بحوث في قضايا فقهية معاصرة: البيع بالتقسيط بيع بثمن مؤجل يدفع إلى البائع في أقساط متفق عليها اھ (ص: 11)۔
وفي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. (13/ 13) والله اعلم بالصواب!
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1