کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ہماری مسجد کے پاس پیسے جمع تھے،انتظامیہ نے ان پیسوں سے ایک آدمی کو کوئی جنس لے کر دیدی، اس کی نقد قیمت ہزار(1000) روپے ہے،انہوں نے وہ بازار سے خرید کر اس کو بارہ سو(1200) میں دیدی ہے، جو وہ چھ(6) ماہ کے بعد 1200 کے حساب سے پیسے واپس کرے گا، اور ایک دوسرے آدمی کو رقم دی ہے،وہ اس طرح کہ وہ کہتا ہے کہ میں منافع متعین نہیں کرتا،میں ویسے ہی مسجد کی خدمت کردوں گا،ا ب اس آدمی نے پیسے واپس کرنے ہیں اور اپنی مرضی سے خدمت کردے گا،انتظامیہ کے ساتھ منافع طے نہیں ہے،کیا دونوں طریقے ٹھیک ہیں؟جلد ازجلد جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔
مذکور پہلی صورت شرعاً بھی جائز اور درست ہے اور اس سے حاصل ہونے والے نفع کا ضروریاتِ مسجد میں خرچ کرنا بھی جائز ہے،جبکہ دوسری صورت میں قرض دی ہوئی رقم پر مزید کچھ لینا سود کے حکم میں ہونے کی بناء پر جائز نہیں،اس سے اور نیز اس طرح مسجد کی رقم کسی کو قرض دینے یا اسے کاروبار میں لگانے سے احتراز لازم ہے۔
کمافی رد المحتار: (قوله: لو زاد المتولي دانقا) صورته استأجر المتولي رجلا في عمارة المسجد بدرهم ودانق وأجرة مثله درهم ضمن جميع الأجرة من ماله لأنه زاد في الأجر أكثر مما يتغابن فيه الناس، فيصير مستأجرا لنفسه فإذا نقض الأجر من مال المسجد، كان ضامنا بحر عن الخانية اھ(4/371)۔
وفی الدرالمختار: القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه.وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام الخ
وفی ردالمحتار:(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا اھ(5/166)۔
وفی الاشباہ والنظائر: وھل یجوز للمتولی أن یشتری متاعاً باکثر من قیمته ویبیعه ویصرفه علیٰ العمارة ویکون الربح علیٰ الوقف؟الجواب: نعم اھ(193)