میں نے ایک بندے سے سونا ایک تولہ خریدنا ہے، سونے کی فی تولہ قیمت اس وقت 6000 پاکستانی روپے ہے، میں نے اسے کہا کہ میں آپ کو 4500 روپے ابھی دیتا ہوں ، اور باقی ایک مہینے بعد آپ مجھے سونا اس وقت دیں جب میں آپ کو سارے پیسے دیدوں تو دوکاندار نے کہا کہ یہ سود ہے، قرآن و حدیث کی روشنی میں میری راہ نمائی کریں۔
سونے کا نقدی کے مقابلے میں ادھار یا قسطوں پر معاملہ اگر چہ جائز ہے، مگر کسی ایک جانب سے قبضہ ضروری ہے ۔
کمافي الفتاوى الهندية: إذا اشترى الرجل فلوسا بدراهم ونقد الثمن ولم تكن الفلوس عند البائع فالبيع جائز وإن استقرض الفلوس من رجل ودفع إليه قبل الافتراق أو بعده فهو جائز إذا كان قد قبض الدراهم في المجلس وكذلك لو افترقا بعد قبض الفلوس قبل قبض الدراهم كذا في المبسوط (3/ 224)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1