آج کل بینک کی فنانسنگ اسکیم کے بارے میں معلوم کرنا تھا کہ بینک قسطوں پر نئی کار کسٹمر کو 5 سال کے عرصہ پر دیتا ہے ، بینک کار کی قسطوں کے ذریعے زیادہ رقم لیتا ہے ، اس کے ساتھ وہ جبری انشورنس بھی کرتا ہے، کیونکہ پاکستانی حکومت کا قانون ہے کہ بغیر انشورنس کے کار دینا منع ہے، اس صورت حال میں کار لینا جائز ہے؟ کیا انشورنس والی گاڑی لینا جائز ہے ؟ رہنمائی فرمائیں، جزاکم اللہ خیراً
نقد کے مقابلے میں ادھار یا قسطوں پر خرید و فروخت کی صورت میں زیادہ قیمت مقرر کرنا شرعاً جائز اور درست ہے، اور یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا ، صورتِ مسئولہ میں بینک سے قسطوں پر گاڑی خریدنے میں درجِ ذیل شرائط کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
: بینک گاڑی شو روم وغیرہ سے خرید کر اپنے قبضہ میں لے چکا ہو ،اور پھر دوسرے عقد کے ذریعہ کسٹمر پر فروخت کرے ۔
۲ : بینک نے اپنی مرضی سے گاڑی انشورنس کروائی ہو ۔
۳: پہلی مجلسِ عقد میں ہی یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھارا اور قسطوں پر ہوگا ۔
۴: ہر قسط کی مالیت طے کرلی جائے۔
۵: یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل قسطیں کتنی ہوں گی۔
۶: کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہو۔ ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے بینک سے قسطوں پر گاڑی خریدنا بلاشبہ جائز اور درست ہے ، ان میں سے کوئی ایک شرط بھی فوت ہو گئی تو مذکور معاملہ جائز نہیں ہوگا ۔
كما في الدر المختار: (وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع ولو باع مؤجلا صرف لشهر به يفتى اھ (4/ 531)۔
وفي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد (إلی قوله) وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اھ (13/ 13)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1