ایک دوکاندار ادھار پر خریدنے والے گاہکوں کو مہنگے داموں چیزیں فروخت کرتا ہے، جبکہ ان کو بتاتا ہی نہیں ،بلکہ خود پاس لکھ لیتا ہے ۔ اس کی شرعی کیا حیثیت ہے؟
گاہک کو چیز کی قیمت بتائے بغیر چیز دے کر بعد میں اپنی مرضی سے مارکیٹ ریٹ سے زائد لکھ کر وصول کرنا بیع فاسد کے زمرے میں آتا ہے، جو شرعاً جائز نہیں۔ دوکاندار پر لازم ہے کہ معاملہ کرتے وقت چیز کی قیمت طے کر لیا کریں تاکہ دونوں گناہ سے محفوظ ہو سکیں۔
ففي الفتاوى الهندية: وإذا اشترى الرجل شيئا من غيره ولم يذكر ثمنا كان البيع فاسدا اھ (3/ 122)
وفيها أیضا: ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فبيع المجهول جهالة تفضي إليها غير صحيح اھ (3/ 3)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما شرائط الصحة ( الى قوله ) (ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة. فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع اھ (5/ 156) والله اعلم بالصواب
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1