میری ہیڈ کی بیٹی کی ڈیلوری کے وقت موت ہوگئی ہے اور ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اب وہ دوبارہ ماں نہیں بن سکتی، وہ واہگہ بارڈر کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتی ہیں، وہا ں نہ موبائل کے سگنل آتے ہیں اگر ان کا آپ سے رابطہ ہوتا تو وہ بہتر بتا سکتی تھی، لیکن اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو آپ انہیں فرٹیلائزیشن کے بارے میں رہنمائی فراہم کردیں کہ اس کے بارے میں اسلام کیا کہتے ہیں؟ اور یہ اسلام میں جائز ہے یا نہیں ؟
واضح ہو کہ مصنوعی طریقے سے حمل ٹہرنے اور حصول اولاد کے لیے جو مختلف طرق رائج ہیں ان میں سے سخت مجبوری کے تحت صرف اس طریقہ کی گنجائش معلوم ہوتی ہے کہ مادہ منویہ اپنے زندہ شوہر کا ہو پھر شوہر اوربیوی کے نطفہ کا باہم اختلاط کر کے وہ بیوی کے رحم میں رکھ دیا جائے، جہاں وہ حمل پرورش پائے اور یہ عمل خود بیوی یا اس کے شوہر یا کسی ماہر معالج عورت سے کروایا جائے، اور اس دوران ستر وحجاب کا پورا خیال رکھا جائے کہ ضرورت سے زیادہ ہر گز نہ کھولا جائے تو اس کی گنجائش ہے۔
کما فی الفقہ الاسلامی : التلقيح الصناعي: هو استدخال المني لرحم المرأة بدون جماع. فإن كان بماء الرجل لزوجته، جاز شرعاً، إذ لا محذور فيه، بل قد يندب إذا كان هناك ما نع شرعي من الاتصال الجنسي. وأما إن كان بماء رجل أجنبي عن المرأة، لا زواج بينهما، فهو حرام الخ (4/2649)۔