حضرت میری کاپی اور رجسٹر کی دوکان ہے، آج کل یہاں یہ بات بہت عام ہوگئی ہے کہ کاپی پر ۴۰۰ نمبر لکھا ہوا ہوتا ہے، حالانکہ حقیقت میں کا غذات ۴۰۰ نہیں ہوتے ، اب یہاں جو بھی دکاندار مال لینے آتا ہے، اس کو معلوم ہے کہ کا غذات اتنے نہیں، جتنے لکھیں ہوئے ہیں ،اور کہتے ہیں کہ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لکھا کیا ہے؟ اور ہوتے کتنے ہیں ، اب جو مجھ سے مال لے رہا ہے، اگر میں اس کو یہ بات بتاؤں کہ باہر جو لکھا ہے ،اندر اتنے کا غذات نہیں تو کیا یہ جائز ہوگا ؟ برائے مہربانی میری مدد فرما دیجیئے۔
گا ہک کو اگر کاپیوں کے کاغذات کے متعلق مذکور بات پہلے سے معلوم ہو، یا اسے آگاہ کر دیاہو تو اس صورت میں کاپیوں کی خرید و فروخت بلاشبہ جائز ہے۔
ففي الفتاوى الهندية: ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة (3/ 3)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1