کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں مدارس دینیہ میں حفظ قرآن کے قاری صاحبان کے ہاں پڑھنے والے بچوں میں سے کوئی تکمیل قرآن مجید کرتا ہے تو اس بچے کے والدین ،قاری صاحب کو اس خوشی کے موقع پر اپنی طرف سے تحفے دیتے ہیں، بعض کپڑوں کی صورت میں اور بعض دفعہ دیگر صورتوں میں یعنی موٹر سائکل، بائیسکل اور گاڑی وغیرہ، اب آپ حضرات سے یہ درخواست ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں فقہاء کی آراء سے آگاہ فرمائیں، 1- کیا تکمیل قرآن کے موقع پر بچوں کے والدین کا کپڑے وغیرہ دینا درست ہے؟ 2- اور کیا اگر پیسے یا کپڑوں کا دینا درست ہو تو کیا گاڑی وغیرہ دینا اور لینا درست ہے؟ بینوا توجروا وفقکم اللہ
اگرچہ اظہار مسرت کے طور پر دلی خوشی و رضامندی سےمذکور تمام امور کی شرعاً گنجائش ہے، مگر اس کو اس طرح رسم بنا لینا کہ ہر شخص کو خواہی نہ خواہی دینا پڑے جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: يجوز للإمام والمفتي والواعظ قبول الهدية؛ لأنه إنما يهدى إلى العالم لعلمه الخ (ج5 صـ372 کتاب القضاء ط: دار الفکر)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله: وفيها إلخ) أي في التتارخانية ومعلم القرآن والعلم؛ لأنهم ليس لهم أهلية الإلزام، والأولى في حقهم إن كانت الهدية، لأجل ما يحصل منهم من الإفتاء والوعظ والتعليم عدم القبول ليكون علمهم خالصا لله تعالى، وإن أهدي إليهم تحببا وتوددا لعلمهم وصلاحهم فالأولى القبول الخ (ج5 صـ372-373 کتاب القضاء ط: دار الفکر)۔