ایک آدمی نے مدرسہ ومسجد کے لئے دوپلاٹ وقف کیے ،جو تقریباً قریب ہیں،اب وہ یہ چاہتا ہے کہ ایک پلاٹ کسی کو سودا کرکے دے اور اس کے عوض دوسرا پلاٹ لے لے،تاکہ ایک پلاٹ بڑا ہوجائے،مسجد ومدرسہ کے لئے جگہ بڑی ہوجائے،کیا یہ صورت جائز ہے؟
اگر واقف نے ابھی اسے محض زبانی وقف کیا ہو اور عملی طور پر ان جگہوں پر نماز وغیرہ امور انجام نہ دیے گئے ہوں یا الگ رہتے ہوئے ان پلاٹوں سے بالکلیہ انتفاع ممکن نہ ہو تو ان صورتوں میں اس جگہ کو بیچ کر دوسرا بڑا پلاٹ خریدنا جائز ہے،ورنہ نہیں۔
کمافی الدرالمختار: صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه اھ(4/384)۔