امامت و جماعت

فجر کی جماعت شروع ہونے کے بعد مسجد میں سنت پڑہنا

فتوی نمبر :
25463
| تاریخ :
عبادات / نماز / امامت و جماعت

فجر کی جماعت شروع ہونے کے بعد مسجد میں سنت پڑہنا

ہماری مسجد کا جماعت خانہ چھوٹاہے ایک صف میں پندرہ مصلی نماز پڑھ سکتے ہیں اور ایسی صرف تین صفیں بنتی ہیں، واضح رہے کہ مسجد کے باہر کا حصہ صرف اتنا ہے کہ ایک ساتھ صرف تین آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں البتہ اوپر ایک منزل ہے لیکن لوگ کاہلی اور پیروں میں تکلیف کی وجہ سے اوپر نہیں جاتے، اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ جماعت خانہ میں فجر کی اقامت کے بعد فجر کی سنتیں پڑھنے کی رخصت ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

فجر کی جماعت اگر مسجد کے اندرونی حصے میں ہوتی ہو تو ایسی صورت میں مسجد کے باہر والے حصے میں فجر کی سنتوں کا اداء کرنا جائز ہے جبکہ جماعت کے قعدہ آخیرہ تک اس میں ملنے کی امید ہو، اگر جماعت ملنے کی امید نہ ہو تو پھر سنتیں چھوڑ کر فجر کی جماعت میں شامل ہونا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: (وإذا خاف فوت) رکعتی (الفجر لاشتغالہ بسنتہا ترکھا) لکون الجماعۃ أکمل (وإلا) بأن رجاء ادرٰک رکعۃ فی الظاھر المذہب وقیل التشہد وعلیہ اعتمدہ المصنف والشر نبلالی تبعًا للبحر، لکن ضعفہ فی النہر (لا) یترکہا بل یصلیہا عند باب المسجد، إن وجد مکانًا والا ترک لأن ترک المکروہ مقدم علی فعل السنۃ اھ۔
وفی الشامیۃ: تحت (قولہ عند باب المسجد) أی خارج المسجد کما صرح بہ القہستانی (إلٰی قولہ) فإن لم یکن علی باب المسجد موضع للصلاۃ یصلیہا فی المسجد خلف ساریۃ من سواری المسجد الخ (ج:۲ ص: ۵۶) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 25463کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات