مفتی صاحب! نماز میں پچھلی صف میں اکیلے بندے کے ساتھ کھڑے ہونے کے بعد اگلی صف میں جو خالی جگہ رہ جاتی ہے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ شرجیل نام کے معنی مہربانی کرکے بتائیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی صحابی کا نام شرجیل ہے؟
(1) صورت مسئولہ میں بعد میں آنے والے نمازی کو چاہیے کہ اگلی صف میں خالی جگہ پُر کرے، پیچھے کھڑا نہ ہو، تاہم اگر کوئی شخص اگلی صف میں جگہ ہونے کے باوجود پچھلی صف میں نماز پڑھے تو اس کی نماز ادا ہوجائے گی، لیکن اس طرح کرنا مکروہ ہے۔
(2) اصل نام “شرحبیل ” (ش، ر ، ح ، ب ، ی اور ل) ہے، اور یہ ایک صحابی کا نام ہے“ حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ پھر بعد میں کسی نے غلطی سے ”شرجیل“ لکھا یا پڑھا، اس کے بعد سے اسی "ط" لکھا یا پڑھا، اس کے بعد سے اسی طرح منقول چلا آرہا ہے، اس لیے اصل نام ”شرحبیل“ہی لکھا اور پڑھا جائے۔
ففي الدر المختار: ولو وجد فرجة في الأول لا الثاني له فرق الثاني لتقصيرهم، وفي الحديث من سد فرجة غفر له» وصح «خيار كم ألينكم مناكب في الصلاة»
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله لتقصيرهم) يفيد أن الكلام فيما إذا شرعوا. وفي القنية قام في آخر صف وبينه وبين الصفوف مواضع خالية فللداخل أن يمر بين يديه ليصل الصفوف لأنه أسقط حرمة نفسه فلا يأثم المار بين يديه، دل عليه ما في الفردوس عن ابن عباس عنه - صلى الله عليه وسلم - «من نظر إلى فرجة في صف فليسدها بنفسه؛ فإن لم يفعل فمر مار فليتخط على رقبته فإنه لا حرمة له» أي فليتخط المار على رقبة من لم يسد الفرجة. اهـ.. (570/1)۔