جناب مفتی اعظم پاکستان مفتی زرولی خان صاحب دامت برکاتہم!
مفتی صاحب! درج ذیل مسائل کے بارے میں ازروئے شریعت کیا فرماتے ہیں؟ احکام صادر فرمائیں:
۱۔ نمازِ تراویح میں عورتوں کا مسجد آنا، مسجد کے تحت خانہ میں باجماعت تراویح پڑھنا اور جماعت کے امام کے لیے پڑھانا کیسا ہے؟
۲۔ مسجد میں تراویح سے پہلے عورت کے لیے (عورتوں کے لیے اسکرین پر) بارہ (۱۲) رکعات تراویح میں جتنا قرآن پڑھنا ہو اس کا ترجمہ، تفسیر کرنا اور بارہ رکعات کے بعد وقفہ برائے چائے وغیرہ کر کے اسی آٹھ رکعات تراویح میں جتنا قرآن پڑھنا ہو ان کا ترجمہ وتفسیر بیان کرنا کیسا ہے؟
۳۔ عید کی نماز کے لیے اور بعض مواقع پر دوسری نمازوں کے لیے عورتوں کا مسجد آنا کیسا ہے؟
نوٹ: مذکور مسجد جو بیانات فکر ڈاکٹر اسرار احمد کے پیروکاروں کے زیر اہتمام ہے اور پہلے اس مسجد سے تبلیغی حضرات کو بھی منع کیاگیا تھا۔
(۱،۳)واضح ہو کہ حضرت اقدس مفتی زرولی خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ اس ویب سائٹ پر مسائل کا جواب نہیں دیتے، حضرت کا احسن العلوم کے نام سے اپنا ادارہ قائم ہے، سائل کو چاہیے کہ حضرت سے مسائل پوچھنے کے لیے وہاں سے مراجعت کرے۔ جبکہ جہاں تک سوال کا تعلق ہے تو خواتین کا فرض نمازوں، عیدین یا تراویح کے لیے مسجد جا کر جماعت میں شریک ہونا جائز نہیں، بلکہ خوفِ فتنہ کی بناء پر خیر القرون کے زمانہ سے ہی ممنوع ہے، اس لیے عورتوں کو اپنے گھر میں نماز اور تراویح کا اہتمام کرنا چاہیے، تاہم اگر خواتین مسجد کی جماعت میں شریک ہو گئی تو نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوجائےگی۔
۲۔ جبکہ بارہ رکعت تراویح کے بعد جتنا قرآن پڑھ گیا ہے اس کی مختصر تفسیر بیان کرنا اور بارہ رکعتوں کے بعد پانی یا چائے وقفہ کرنا بھی درست ہے، مگر اس میں عام مقتدیوں کا لحاظ رکھنا چاہیے کہ ان کو گرانی نہ ہو۔
ففی الفتاوى الهندية: وكره لهن حضور الجماعة إلا للعجوز في الفجر والمغرب والعشاء والفتوى اليوم على الكراهة في كل الصلوات لظهور الفساد. كذا في الكافي وهو المختار. كذا في التبيين. (1/ 89)
وفی الفتاوى الهندية: ويستحب الجلوس بين الترويحتين قدر ترويحة وكذا بين الخامسة والوتر. كذا في الكافي وهكذا في الهداية، ولو علم أن الجلوس بين الخامسة والوتر يثقل على القوم لا يجلس. هكذا في السراجية ثم هم مخيرون في حالة الجلوس إن شاءوا سبحوا وإن شاءوا قعدوا ساكتين، وأهل مكة يطوفون أسبوعا ويصلون ركعتين وأهل المدينة يصلون أربع ركعات فرادى. كذا في التبيين. (1/ 115) واللہ أعلم بالصواب!