ایک دن میری زوجہ نے مجھ سے کہا کہ میں نے یہاں نہیں رہنا ہے، مجھے باپ کے گھر لے جائیں تو میں نے اسے کہا کہ اگر تم اس کمرہ سے باہر نکلی تو تم مجھ پر طلاق ہے، اس کے بعد میں بازار چلا گیا جب شام کو گھر آیا تو اس نے اپنے بیگ تیار کیے تھے لہذا اگلے دن میں نے خود اس کو کمرے سے نکال کر کے گاڑی میں بٹھا کر اس کے باپ کے گھر چھوڑ آیا , اب آپ یہ بتائیے کہ مذکورہ صورت میں میری بیوی پر طلاق ہو جاتی ہے یا نہیں ؟
اگر بیوی اسی وقت نکل کر باپ کے گھر جانا چاہتی تھی اور شوہر نے اسے فوری طور پر جانے سے روکنے کیلئے یہ جملہ بولا ہو جس پر بیوی اسی وقت جانے سے منع بھی ہوگئی تھی تو دوسرے روز اس کے چلے جانے سے شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
وفی الفتاوى الهندية :وفي المرأة إذا قامت لتخرج فقال الزوج: إن خرجت فأنت طالق فجلست ثم خرجت بعد ذلك بساعة لا يحنث في يمينه اھ (1/449)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0