کیا قضاء نماز کےلیے اذان اور اقامت دینا ضروری ہے؟ترتیب نماز ضروری ہے یا نہیں؟ مطلب اگر فجر کی قضا ایک سال کی ،ایک ساتھ ادا کر دے، اس کے بعد ظہر کی اور پھر بقیہ نمازیں ؟
اگر قضاء نماز جماعت کے ساتھ ہو یا منفرد صحرا میں ہو ،تو آذان اور اقامت سنت ہے ورنہ نہیں ،جبکہ قضاء نمازوں میں ترتیب ضروری نہیں، بلکہ حسبِ سہولت کوئی بھی صورت اختیار کی جا سکتی ہے، اس لیے سوال میں مذکور صورت اختیار کرنے میں بھی حرج نہیں ۔
ففي الدر المختار: ويسن أن يؤذن ويقيم لفائتة ، رافعاً صوته لو بجماعة أو صحراء لاببيته منفردا اھ(1/ ۳۹۰)
وفي الشامية: (قوله أو فاتت ست ولا بين الفوائت ستا كذا فى النهر اھ (۶۸/۲)