کیا مسجد کی چیزوں کو مثلاً بجلی،گیس،پانی آس پاس کے گھروں کو دیا جاسکتا ہے؟ان کے ذاتی استعمال کیلئے؟
اور کیا اس شرط پر دیا جاسکتا ہے کہ وہ پورا بل ادا کریں گے؟ اگر دیا جاسکتا ہے تو کتنی مدت کے لئے؟
مسجد کی بجلی اور گیس بھی غیر قانونی طور پر کسی دوسرے کو دینا جائز نہیں،اس سے احتراز لازم ہے،البتہ پانی کی اگر کسی کو واقعی مجبوری ہو،اسی طرح سخت مجبوری میں اگر مکمل طور پر حکومتی بل کی ادائیگی کی شرط پر بجلی دے دی جائے تو بقدرِ ضرورت دینے کی گنجائش ہے؟اگرچہ خلافِ قانون کا گناہ ہوگا۔
کمافی الدرالمختار:(يفتى بالضمان في غصب عقار الوقف وغصب منافعه) أو إتلافها اھ(4/408)۔
وفی الھندیة:ولا تجوز إعارة الوقف والإسكان فيه، كذا في محيط السرخسي اھ(2/420)۔
وفیه أیضاً:متولي المسجد ليس له أن يحمل سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد، كذا في فتاوى قاضي خان اھ(2/462)۔