مادۂ منویہ کی تجارت درست ہے ؟ اگر نہیں تو کیوں؟
انسان کا مادۂ منویہ مال نہیں کہ اس کی تجارت کی جائے ،اور دوسری بات یہ کہ یہ جزءِ انسانی ہے، ا س لئے بھی اس کی خرید وفروخت شرعاً جائز نہیں، جس طرح سے دیگر انسانی اعضاء کی خرید وفروخت جائز نہیں، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
ففی الفتاوى الهندية: ولا يجوز بيع شعور الإنسان ولا يجوز الانتفاع بها وهو الصحيح كذا في الجامع الصغير (إلی قوله) ولم يجز بيع لبن امرأة ولو في قدح حرة كانت أو أمة (إلی قوله) وفي الخانية وإذا وقعت قطرة من البول أو الدم في خل أو زيت لا يجوز بيعه كذا في التتارخانية اھ (3/ 116)۔
وفی الدر المختار: (بطل بيع ما ليس بمال) (إلی قوله) (كالدم) المسفوح فجاز بيع كبد وطحال اھ (5/ 50)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1