السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ میری ایک استانی ہے جن سے میں پانچ سال تک پڑھا ہوں میں ان کو اپنی بہن مانتا ہوں اور جب سے اسے آپی بولتا ہوں وہ مجھ سے کافی بڑی ہے اللہ نہ کرے کہ میرے دل میں ان کے لئے غلط سوچ آئے، اور وہ ہمیشہ میرے سامنے پردے میں ہی رہتی ہے، کیا یہ رشتہ گناہ میں لکھا جائےگا؟ اور اگر آگے بھی میں ان کو منہ بولی بہن بولوں تو کیا یہ جائز ہے؟
استانی ہونے کا تعلق اپنی جگہ لیکن سائل کیلئے یہ خاتون نامحرم ہے بلا ضرورت اس سے بات چیت کرنا بے تکلف ہونا یا ان کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنا نا جائز اور حرام ہے جس سے احتراز لازم ہے البتہ پردہ میں رہ کر ضرورت کی بات کرنا جائز اور درست ہے۔
فی الدر: ولا یکلم الاجنبیۃ الا عجوزا عطست او سلمت فیشمتہا ویرد السلام علیہا والا لا (۶/ ۳۶۹)۔
وفی رد المحتار: تحت (قولہ والا لا) ای والا تکن عجوزا بل شابۃ لا یشمتہا ولا یرد السلام بلسانہ (۶/ ۳۶۹)۔
وفی الدر: (و) ینظر (من الاجنبیۃ الی وجہہا وکفیھا فقط) للضرورۃ (۶/ ۳۶۹)۔
وفی المبسوط: وہذا کلہ اذا لم یکن النظر عن الشہوۃ فان کان یعلم انہ ان نظر اشتہی لم یحل لہ النظر الٰی الشیء منہا (۱۰/ ۱۵۳) واللہ اعلم