آج سے تین سال پہلے میری بیوی سے لڑائی ہوئی کہ" آپ نے اپنی بہن کے گھر نہیں جانا، اگر گئی تو تیرا میرا رشتہ ختم "، خیر مجھے کام سے باہر جانا پڑ گیا ، راستے میں مجھے احساس ہوا کہ مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا، جب عصر کے وقت میں واپس آیا تو وہ چلی گئی تھی،گھر والوں نے بتایا کہ اس کی والدہ آئی تھی، وہ ساتھ لے گئی ، اس کی بہن کے گھر ،شام کو بیوی واپس گئی ،اور اس کے تھوڑی ناراضگی کے بعد ہم اکھٹے رہنے لگے، کچھ عرصہ پہلے ایک اسلامی کتاب میں پڑھا کہ ایسے الفاظ بولنے سے طلاق ہو جاتی ہے،اورمجھے جو علم تھا کہ جب طلاق کے الفاظ نہ دو، طلاق نہیں ہوتی ہے، از راہ کرم اس حوالے سے مجھے بتائیں کہ کیا میری طلاق ہو گئی ہے؟
سائل نے اگر مذکورہ الفاظ ’’ آپ نے اپنی بہن کے گھر نہیں جانا، اگر گئی تو تیر امیر ارشتہ ختم ‘‘ طلاق کی نیت سے کہے ہوں، اور اس کے بعد سائل کی بیوی اپنی بہن کے گھر جا چکی ہو ،تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر نکاح ختم ہو چکا، اس کے بعدجتنا عرصہ میاں بیوی کی حیثیت سے رہے ہیں، گناہ میں رہے ہیں، اس پر بصدق دل تو بہ واستغفار کریں اور فوراً ایک دوسرے سے علیحد گی اختیار کریں۔
تاہم آئندہ کے لیے اگر دونوں میاں بیوی خوشی سے آپس میں ایک ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر پر دوبارہ نکاح کرنے کے بعد ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔
کمافی الھندیة: ولوقال لھا لانکاح بینی وبینک او قال لم یبق بینی وبینک نکاح یقع الطلاق اذانوی اھ(1/ 375)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0