ہماری کمپنی میں ہر ماہ پراویڈنٹ فنڈ کی کٹوتی ہماری تنخواہ سے کی جاتی ہے، اور وہ پیسہ کمپنی لگاتی ہے، مگر ہمارے ہاتھ میں وہ پیسہ نہیں ہوتا، کیا اس پیسہ پر زکوٰۃ لاگو ہوگی اگر ہوگی تو میں 17 سال کی زکوٰۃ کیسے ادا کروں؟ کیونکہ میرے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔
سائل جس سال کمپنی سے پراویڈنٹ فنڈ کی رقم وصول کرے گا اس کے ذمہ صرف اسی سال کی زکوۃ واجب ہوگی۔ پچھلے سالوں کی زکوۃ اس پر لازم نہیں، البتہ اگر وہ پچھلے سالوں کی بھی اپنی مرضی سے زکوۃ اد اکرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔
فی الدر: اعلم ان الدیون عند الامام ثلاثۃ: قوی ومتوسط وضعیف ف (تجب) زکاتہا اذا تم نصابًا وحال الحول لکن لا فورًا (إلی قولہ) وعند قبض (مائتین مع حولان الحول بعدہ) ای بعد القبض (من) دین ضعیف (إلی قولہ) الا اذا کان عندہ ما یضم إلی الدین الضعیف اھ (۲/ ۳۰۵، ۳۰۶) واللہ اعلم
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0