نمار میں سورہ فاتحہ فرض ہے جو ہم پڑھتے ہیں ، مگر جنازے کی نماز میں ہم سورہ فاتحہ کیوں نہیں پڑھتے؟ آپ ﷺنے فرمایا ہے کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز ناقص ہے، مہربانی فرماکراس کا جواب عنایت فرمائیں۔
نماز جنازہ کی پہلی تکبیر میں ثناء کےبعد اگرکوئی شخص سورۃ فاتحہ کو بطور دعاء پڑھے ،تو اس کے پڑھنے میں کوئی حرج بھی نہیں ،البتہ عند الاحناف جنازہ کی نماز میں سورۃ فاتحہ کو بطور قرآن پڑھنا ثابت نہیں، اور جہاں تک نبی کریم ﷺکے فرمان مبارک ”لاصلوۃ الا بفاتحة الکتاب“(کہ فاتحہ کے بغیر نماز کامل نہیں ) کا تعلق ہے تو یہ نماز حقیقی کے بارے میں ہے اور جنازہ اصل میں دعاء ہے اور اسے جو نماز کہا گیا ہے، یہ نماز کے بعض شرائط (طہارت ،استقبال قبلہ وغیرہ) پرمشتمل ہونے کی وجہ سے، اسی لیے جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنالازم نہیں۔
كما في البدائع: ولا يقرأ في الصلاة على الجنازة بشيء من القرآن (الى قولہ) ولو قرأ الفاتحة على سبيل الدعاءالثناء لم يكره الخ ( 1 / ٣١٣) ۔
وفيها ايضاً: ولنا عن ابن مسعود رضى الله عنه أنه سئل عن صلوة الجنازة هل يقرأ فيها؟ فقال لم يوقت لنا رسول الله قولا ولا قرأة (الى قولہ ) وروى عن عبد الرحمن بن عوف وابن عمر رضى الله عنهما . انهما قالا ليس فيها قرأة شيء من القرآن ولانها شرعت للدعاء ومقدمة الدعاء الحمد والثناء والصلاة على النبي لا القرأة ، واما قوله عليه السلام لاصلوة الا بفاتحة الكتاب ولا صلوة الا بقرأة لا يتناول صلوة الجنازة لانها ليست بصلوة حقيقة انما هي دعاء واستغفار للميت الا ترى انها ليس فيها الأركان التي تترتب منها الركوع والسجود الا انها تسمى صلاة لما فيها من الدعاء الخ ( ١ / ٣١٤)