کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام قرآن وسنت کی روشنی میں اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
مسجد کے سامنے ایک راستہ ہے،جو شارعِ عام ہے اور اس راستے کے ساتھ ایک پلاٹ ہے اور یہ ذاتی ملکیت ہے،جس میں صاحبِ پلاٹ اپنے مردوں کی تدفین کرتا تھا،ایک عرصہ ہوچکا ہے،اس میں مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دیا ہے،آخری مردہ تقریباً سال پہلے اس میں دفن کیا گیا تھا ،اب قبروں کے نشانات ختم ہوچکے ہیں، مسجد کی توسیع کے لئے جگہ کی ضرورت ہے، صاحبِ پلاٹ فوت ہوچکا ہے، اور ورثاء یہ پلاٹ مسجد کو دینا چاہتے ہیں، تو کیا یہ راستہ اور پلاٹ مسجد میں شامل کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟مسجد والے یہ چاہتے ہیں کہ راستہ اور پلاٹ کا کچھ حصہ مسجد میں شامل کرلیا جائے اور پلاٹ کے کچھ حصے پر راستہ نکال لیا جائے،ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟ جب کہ ورثاء اس پر راضی ہیں۔
نوٹ: نہ صاحبِ پلاٹ نے اپنا پلاٹ وقف کیا تھا اور نہ ہی اس کے ورثاء نے اس پلاٹ کو قبور کے لئے وقف کیا ہے۔
مذکور قبرستان میں اگر قبریں اتنی پرانی ہوچکی ہوں کہ ان میں مدفون مردے مٹی بن چکے ہوں تو مالک یا اس کے ورثاء کی اجازت سے مذکور پلاٹ کو مسجد میں داخل کرنا جائز اور درست ہے،جبکہ راستہ کا کچھ حصہ توسیع مسجد کی غرض سے لے لینا اور اس کا متبادل راستہ بھی نکال دیا جائے،نیز عوام الناس کو اس سے کوئی تنگی اور ضرر بھی لاحق نہ ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
کمافی الدر المختار: جاز زرعه والبناء علیه اذا بلی وصار تراباً اھ(2/238)۔
وفی التبیین:ولوبلی المیت وصار ترابا جاز دفن غیرہ وزرعه والبناء علیه اھ(1/589)۔
وفی البزازیة: مسجد ضاق باھله وبجنبه طریق للعامة لابأس بأن یلحق بالمسجد من طریق العامة وذکر القاضی انه یلحق بالمسجد اذا کان لایضر بالعامة أما اذا اضر بالعامة فلایلحق به اھ(6/268)۔