السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
جناب میں نے اپنے جاننے والے پرسوٹ بیچا اور مجھے کیش پیسے دیے ، جبکہ وہ کسی اور پر بیچے گا،پھر اس نے مجھےکہا کہ اگر وہ جس کے اوپر بیچےگا وہ پوچھے تو اس کو یہ ریٹ بتاؤ جس پر اس نے اس تیسری پارٹی کو بیچا ہے یہ حلال ہے یا حرام؟
سائل کے دوست پر لازم ہے کہ وہ ا گر نفع بتا کر بیچے تو مکمل سچائی کےساتھ بتائے یا پھر یوں بو کر بیچے کہ میں یہ سوٹ اتنے کا بیچ رہا ہوں، اگر پسند ہے تولے لو ورنہ چھوڑ دو ۔یہ نہ بتائے کہ کتنے کا خریدا ہے ۔لہذا سائل کے لیے تیسری پارٹی کا ریٹ بول کر جھوٹ بولنا قطعاً جائز نہیں۔
کما فی الھندیة: ومن اشترى شيئا وأغلى في ثمنه فباعه مرابحة على ذلك جاز وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - إذا زاد زيادة لا يتغابن الناس فيها فإني لا أحب أن يبيعه مرابحة حتى يبين.الخ (3/161)۔
و فی البحرالرئق: قوله (ويقول قام علي بكذا) ، ولا يقول اشتريته لأنه كذب، وهو حرام، الخ (6/119)۔
و فی الدرالمختار: (المرابحة) مصدر رابح وشرعا (بيع ما ملكه) من العروض ولو بهبة أو إرث أو وصية أو غصب فإنه إذا ثمنه (بما قام عليه وبفضل) مؤنة وإن لم تكن من جنسه كأجر قصار ونحوه، ثم باعه مرابحة على تلك القيمة جاز مبسوط. الخ (5/132)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1